Tuesday, July 2, 2013

چین، مذھبی جبر اور مسلمانوں کی حکمت عملی


غیر متصدقہ اطلاعات کے مطابق اس سال اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق ٢٠١٢ میں چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی (1). اس کے بارے میں مذمتی "بیان" دینے سے پہلے میں نے سوچا کے کیوں نہ تھوڑی ریسرچ کر لی جائے. وکیپیڈیا (2) کے مطابق سنکیانگ چین میں ایک خودمختار علاقہ ہے جہاں پر ترکی نسل کے مسلمانوں کی اکثریت ہے. غور طلب بات یہ ہے کے اس وسیع و عریض علاقے کی سرحدیں منگولیا،روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان ،پاکستان (گلگت بلتستان) اور بھارت سے ملتی ہیں.مزید غور طلب بات یہ ہے کے روس افغانستان جنگ میں چین نے اسی صوبے سے مجاھدین کو اسلحہ فراہم کیا اور یہاں مجاہدین کو تربیت بھی دی. میرے علم میں نہیں تھا کے اس گنگا میں چین نے بھی ہاتھ دھوے ہیں اور شاید پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح اب وہ بھی اپنے کیے کا خمیازہ بگھترہا ہے
خیر، جو بھی ہو مذھبی آزادی ہر انسان کا حق ہے، اور مذھبی جبر اور استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا. اس لئے ہم سب کو چین کی مذمت کرنی چاہیے بلکل اسی طرح جیسے ہم فرانس کی برقع زبردستی اتروانے اور (میری نظر میں) سعودیہ اور ایران کی، برقع زبردستی پہنانے کی مذمت کرتے ہیں. اس صورت حال میں ہمارے علما، سواے ایک عالم کے، سیاسی اور مذھبی اور سیاسی مذھبی جماعتوں کی خاموشی دیدنی ہے. کہیں سے چین کی مذمت میں ایک بیان بھی سننے کو نہیں ملا. شاید پاک چین دوستی آڑے آ گئی ہو یا وسیع تر ملکی اور ذاتی مفاد.یا شائد ملکی ایجنسی کا ڈر.
مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ، یہمسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے.ایسا صاف نظر آتا ہے کے دنیا کا اقتدار امریکا اور مغرب کے ہاتھ   سے نکل کر چین کے ہاتھ میں ہی جائے گا. تو پھر کیا مسلمانوں کی آنے والی نسل کو امریکا اور مغرب کے بعد ایک اور "طاغوتی قوت" سے لڑنے کی تیاریاں شروع کر دینی چاہیے؟ کیونکے شاید ہماری قسمت میں لڑنا اور مرنا ہی لکھ دیا گیا ہے. کیونکے ہم نہ تو جاپان ہیں کے دوسری جنگ عظیم کے بعد، اپنی خونی تاریخ سے سیکھ کر، نہ لڑنے کا معاہدہ کر لیں اور نہ ہی مشرقی اور مغربی جرمنی، کے ایک ساتھ پر امن انداز میں رہنا سیکھ لیں. تو کیا ہم مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کو ایک اور سپر پاورملک سے لڑنا ہو گا جو آج تک ہمارا بہترین دوست ہے؟ (جیسے ایک زمانے میں امریکا ہمارا نجات دہندہ تھا؟). کیا مسلمان ہمیشہ جلاؤ، لڑو اور مارو والی حکمت عملی پر عمل پیرا رہیں گے یا دنیا کی قوتوں سے نبرد آزما ہوے بغیر امن خرید کراپنی اصلاح، اپنی ترقی، اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں گے؟ کیا ہم ابھی بھی شاعروں کی بتائی ہوئی حکمت "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی" پر عمل پیرا رہیں گے یا اپنے نبی کے اسوہ میں صلح حدیبیہ سے کچھ سیکھیں گے؟ بیشک مسلمانوں پر وقت کی قوتیں مظالم ڈھا رہی ہیں، لیکن کیا یہ وقت ہے کے ہم جواب میں لڑیں، کیا ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا ہمیں امن خرید کر اپنے آپ کو ایسے مقام پر لانا چاہیے کے ہم اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا جواب دے سکیں؟ ابھی وقت ہے کے ہم اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کا بغور جائزہ لیں ورنہ کم از کم مزید دو صدیاں لڑنے اور مرنے کے لئے تیار رہئے
الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو. جہاں رہئے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے باعث رحمت بنئے.
(1) http://www.aljazeera.com/news/asia-pacific/2012/08/201281113456325751.html
(2) https://en.wikipedia.org/wiki/Xinjiang

نوٹ: مندرجہ ذیل عبارت میں نے اپنی بات بہتر بیان کرنے کے لئے بعد میں ایڈ کی. "
 بیشک مسلمانوں پر وقت کی قوتیں مظالم ڈھا رہی ہیں، لیکن کیا یہ وقت ہے کے ہم جواب میں لڑیں، کیا ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا ہمیں امن خرید کر اپنے آپ کو ایسے مقام پر لانا چاہیے کے ہم اپنے اوپر "ہونے والے مظالم کا جواب دے سکیں؟"

Thursday, March 28, 2013

انتہا پسندی اور ہمارا رویہ


بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج کل انتہا پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے. معاشرہ دو انتہاؤں میں بٹ چکا ہے مذہبی انتہا پسندی اور لبرل انتہا پسندی. دوسرے الفاظ میں معاشرہ پولرائز ہو چکا ہے. دونوں طرح کی انتہا پسندی کے پیچھے بیشتر وجوہات اور اسباب ہو سکتے ہیں، اور یہ بات بھی امر واقعہ ہے کے، جیسے نیوٹن نے کہا کے ہر عمل کا ایک برابر اور مخالف رد عمل ہوتا ہے، اسی طرح ایک انتہا پسندی دوسری طرف برابر سطح کی مخالف انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے.  لیکن آج میرا موضوع انتہا پسندی کے اسباب اور وجوہات پر روشنی ڈالنا نہیں بلکے اس انتہا پسندی کی طرف ہمارے رویے کو سمجھنا ہے.  


ہمارے ہاں ان دونوں طرح کی انتہا پسندی کو دیکھنے کا ایک خاص زاویہ نظر ہے. ایک طرف، مذہبی انتہا پسندی کا ظہور چاہے پاکستان طالبان کی صورت میں ہو یا شیعہ سنی فسادات کی صورت میں، انہیں عام طور پر اس طرح سمجھا جاتا ہے کے اصل میں کچھ بیرونی طاقتیں ہمارے معاشرے میں اس انتشار کو پھیلانے  کی ذمدار ہیں. اس طرح ہم اس انتہا پسندی کو پیدا کرنے میں اپنے کردار سے آنکھیں بند کر نے کے ساتھ ساتھ ، ان لوگوں کی اصلاح کا راستہ بند کر دیتے ہیں جو اصل میں دین کی متشددانہ اور انتہا پسند تعبیر کو خلوص نیت سے دین کی صحیح تعبیر سمجھتے ہیں. مذھبی انتہا پسند شخص دین کی انتہا پسندانہ تعبیر کے سہارے معصوم لوگوں کی جان کے در پےرہتا ہے اور ہم اس کے نظریات کی اصلاح کی بجاے سارا الزام باہر کی قوتوں کو دیتے رہتے ہیں. 

 دوسری طرف اگر کوئی دانشور، یا عام آدمی، لبرل اور سیکولر خیالات رکھتا ہو تو ہم اسے مغرب اور بیرونی طاقتوں کا آلہ کار اور مسلم معاشرے میں مغربی خیالات کا پرچار کرنے کی "سازش" کا حصہ سمجھتے ہیں. ہم اس بات کو بعید از امکان تصور کرتے ہیں کے، ہو سکتا ہے، مغربی تہذیب کے غلبے کے اس دور میں، ایک شخص مذھبی انتہا پسندی اور اپنے ذھن میں پیدا ہونے والے اشکالات کا مناسب اور تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں، اس نتیجے پر پہنچا ہو کے اصل میں لبرل اور سیکولر نظریات ہی دنیا کے امن اور انسان کی بھلائی کے لئے ضروری ہیں. جب ہم دیکھتے ہیں کےیہ سیکولر اور لبرل انسان مذھبی شعارخصوصاً داڑھی، حجاب یا جہاد پر تنقید کر رہا ہے تو اس کے اشکالات اور اس کے ذہن میں موجود سوالات کا جواب خلوص اور تعن و تشنیع کے بغیر دینے کی بجاے ہم اس کو اپنے سے الگ دشمن کے گروہ میں ڈال دیتے ہیں اور اس پر لبرل اور سیکولر کا فتویٰ صادر کر کے اپنے سے الگ کر دیتے ہیں، جس سے اس بات کا امکان بلکل ختم ہو جاتا ہے کے وہ شخص اپنے خیالات کو بدلنا تو دور کبھی ان پر نظر رسانی بھی کر پائے 


اپنے ضمیر کو بیچنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں مگر میری ناقص راے میں ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ہوتی;اس لئے کسی بھی انتہا پسند انسان کو، چاہے وہ مذھبی انتہا پسند ہو یا لبرل انتہا پسند، چاہے وہ ایک عام انسان ہو یا کوئی اسکالر، کسی دوسرے گروہ میں ڈالنے اور اس کے نام کے ساتھ غدار، امریکی ایجنٹ اور اس طرح کے دوسرے لیبل لگانے سے پہلے، ایک سائیکولوجسٹ کی طرح، ہمیں اس کے نظریات اور محرکات کا نظریاتی سطح پر تجزیہ کرنا چاہیے اور اس کے بعد یہ کوشش کرنی چاہیے کے ہم اس کے ضمیر کو جھنجوڑیں نہ کے اس کی آنا کو. ہم اچھے اخلاق، حسن ظن اور خلوص کے ساتھ اپنا مقدمہ اس کے سامنے رکھیں اور اسے بتائیں کے ہمارے نزدیک کس طرح اس کے خیالات اور افکار غلط ہیں.میری نظر میں یہ ناممکن ہے کے آپ کسی کو دشمن کا آلہ کار، غدار اور گستاخ بھی کہیں اور پھر یہ سوچیں کے وہ آپ کی بات سنے گا اور اپنے خیالات کو بدل دے گا. ایک مفکر کے الفاظ میں ہمارا اصل کام لوگوں کی نیتوں اور محرکات کو تہ کرنا نہیں بلکے ان کی اصلاح کرنا ہونا چاہیے اور ہمیں یہ نظریاتی جنگ نظریے سے ہی لڑنی ہے .

 جہاں رہئے خدا کی مخلوق کے دلوں میں جگہ بنا کے رہئے

Wednesday, March 13, 2013

اندر کی خوشبو



ایک دن راستہ چلتے ایک مقام پر شدید بدبو کا سامنا ہوا، میں نے اپنے ناک پر ہاتھ رکھ لیا. سامنے سے ایک شخص کو آتے  دیکھا جو بغیر کسی تردد کے، کسی بدبو کے احساس کے بغیر چلا آ رہا تھا. میں جب اس شخص کے قریب پوھنچا تو احساس ہوا کے اس نے بہت اچھی اور نسبتاً تیز پرفیوم لگا رکھی ہے اور اسے اپنے اندر سے آنے والی خوشبو کی وجہ سے باہر سے آنے والی بدبو محسوس نہ ہوئی. 
اس واقعے نے میرا ایک بہت سادہ مگر خوبصورت حقیقت سے سامنا کروایا اور وہ یہ کے انسان کے اندر کی خوشبو اسے دوسروں کے اندر موجود بدبو سے بےنیاز کر سکتی ہے. آپ کے اندر کی خوشبو جتنی دلکش اور تیز ہوگی آپ کو لوگوں کی بدبو اتنی ہی کم محسوس ہو گی. سادہ الفاظ میں آپ کے اندر کا انسان جتنا با ظرف ہو گا، آپ کو لوگوں کے عیب اتنے ہی کم نظر آئین گے.  اپنے اندر کی خوشبو کو تیز کیجئے، آپ کو ہر طرف خوشبو ہی محسوس ہو گی.


Tuesday, January 1, 2013

اختلافات - خدا کی نعمت


الله تعالیٰ نے اس دنیا میں اختلاف کے ذریعے خوبصورتی پیدا فرمائی. اگر ہم اس دنیا کا بغور جائزہ لیں  تو ہمیں یہ حقیقت آشکار ہو گی کے انسانوں، جانوروں، نباتات و جمادات، قدرت کے حسین نظاروں ، پھولوں، موسموں، غرضیکے ہر شے میں  خوبصورتی کی اصل وجہ اختلاف  اور تنوع  ہی ہے.. آپ غور کیجئے  کے صحرا اختلاف سے محرومی کے سبب بوریت کا باعث بنتے اور گلستان اسی اختلاف کی دولت سے مالا مال ہونے کے باعث د لکش محسوں ہوتے ہیں. اسی طرح یہ اختلاف ہی اصل میں دنیا میں ہماری دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے.

میرے  بچپن کا کچھ حصہ کویت جیسے صحرائی ملک میں اور جوانی کا ایک بڑا حصہ ملائشیا  میں گزر رہا ہے جہاں سارا سال موسم معتدل رہتا ہے. یہاں سالہا سال تقریباً ایک ہی موسم رہتا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی بوریت کا احساس ہوتا ہے اور اپنے وطن کے 4 موسم یاد آتے ہیں.کچھ یہی صورت حال انسانوں کے افکار اور خیالات کی بھی ہے. الله تعالیٰ کا انسانوں پر یہ بہت بڑا کرم ہے کے اس نے انسانوں کے خیالات، افکار اور زاویہ نظر میں اختلاف رکھا. اگر پوری دنیا کے لوگ ایک ہی طرح سوچتے تو نہ انسانی تمدن ترقی کرتا اور نہ ہی علم کی دنیا میں ترقی ہوتی. زاویہ نظر کا اختلاف ہی انسانی ذہن کو کشادہ کرتا اور انسان کے سوچنے کے انداز میں وسعت پیدا کرتا ہے.
     انسان اگر اختلاف  اور تنوع کی اس اہمیت کو سمجھ لے تو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کے اصل میں اختلاف اس دنیا کے پروردگار کی بہت بڑی نعمت ہے


 لیکن افسوس، ہمارے ہاں اختلاف کو نعمت کی بجاے زحمت سمجھا جانے لگا ہے. ہم نے فکری اختلاف کو باہمی عناد اور دشمنی کا موجب بنا لیا ہے. ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کے کس طرح ہم  اپنے رشتوں اور افکار میں اختلافات کو الگ الگ رکھیں.  نتیجتاً لوگ اختلاف جیسی نعمت سے بھاگنے لگے ہیں. کہیں صوبائیت کو ناسور سمجھا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں میں موجود مختلف مکتبہ فکر کو زحمت. حالانکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختون، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے تہذیبی، لسانی اور جغرافیائی اختلافات ہی پاکستان کے حسن کا مظہر ہیں. اسی طرح مسلمانوں میں موجود مختلف مکتبہ فکر ہی اصل میں اسلامی علم و فکر کی ترقی کے ضامن ہیں. مسلہ تو اپنے صوبہ پر تکبر اور دوسرے صوبے اور وہاں کے لوگوں کو کمتر سمجھنے میں ہے. اسی طرح صرف اپنے مکتبہ فکر کو حق پر اور باقی تمام مکاتب فکر کو گمراہ سمجھنا اصل مسلہ ہے. 

المیہ یہ ہے کے اب  ہر جگہ اختلافات کو سرے سے ختم کرنے کی غیر فطری بات کہی جاتی ہے. علما ہوں یا دانشور، سیاسی قائدین ہوں یاعام آدمی ہر شخص اختلاف کو ختم کر کے وحدت قائم کرنا چاہتا ہے.  یہ  سراسر حقیقت کے برعکس ہے. میں سمجھتا ہوں کے جب تک انسان روبوٹ نہیں بن جاتے اختلافات بھی ختم نہیں ہو سکتے. اسی لئے ہمیں اختلافات کو ختم کرنے پر زور دینے کی بجاے، اپنے آپ اور آنے والی نسل کی ، اس بات کی تربیت کرنی چاہیے کے اختلافات کے باوجود کس طرح اچھے روابط برقرار رکھے جا سکتے ہیں. ہمیں اس بات کا پرچار کرنا ہے کے اختلاف ایک نعمت  ہے اور اختلافات کے ساتھ جینا ہی اصل جینا ہے اور ایسے جینے میں ہی اصل خوبصورتی ہے.

جہاں بھی رہیے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنیے

Tuesday, December 11, 2012

ہمارے معاشرے کے تضادات - "چھوٹے" کام

 ہمارے بڑے ہمیں ہمیشہ ایک نہایت عمدہ سبق پڑھاتے رہے. وو یہ کے بیٹا ہمیشہ محنت کرنا اور کوئی بھی کام کرنے میں کبھی کوئی آر محسوس نہ کرنا. وہ ہمیشہ ہمیں بتاتے رہے کے اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں ہی بڑائی ہے. یہ ایک نہایت عمدہ درس تھا جو وہ ہمیں دیتے رہے. 

لیکن اس کے ساتھ ہی، نہ چاہتے ھوے ،وہ ہمیں ایسے "درس" بھی دیتے رہے جو اوپر دیے گئے سبق کی نفی تھے اور جس سے ہمارے رویوں میں موجود تضاد جھلکتا ہے. وہ درس مختلف صورتوں میں سامنے آتا. میں آپ کے سامنے اس کی صرف  ایک سادہ سی صورت رکھتا ہوں. شادی بیاہ کے موقعے پر اگر ہمارے ہاں پتہ چلے کے لڑکا / لڑکی ایسے خاندان سے ہے جن کے آباؤ اجداد موچی یا مہاجر یا تیلی تھے تو وہاں شادی کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا. یہ ایک نہایت باریک تضاد ہے. لیکن اگر آپ بغور تجزیہ کریں تو آپ کو یہ واضح ہو جائے گا کے اسی طرح کے بہت سے غلط نظریات کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں لوگ "چھوٹا" کام کرنے میں آر محسوس کرتے ہیں. 

میں نے "چھوٹے " کام کے معاملے میں صرف ایک تضاد کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروائی. مجھے یقین ہے کے آپ اس آرٹیکل میں اپنے تجربات شیر کر کے مزید ایسے نظریات کی نشاندہی کر سکتے ہیں جس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے کے ہمارے ہاں لوگ،  بظاھر چھوٹے  کام کرنے میں آر کیوں محسوس کرتے ہیں. 


جہاں بھی رہیے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنیے . 



Sunday, December 2, 2012

غزہ اور شام

غزہ پر اسرائیلی جارحیت یقینن کسی بربریت سے کم نہیں. اس پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں نے  اسرائیل کی مذمت کی. ہم سب اور ہماری مذہبی اور سیاسی جماعتیں بھی آگے آگے تھیں. کچھ دنوں کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اسرائیل کی شدید مذمت کی گئی، ہماری مذہبی، سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے جلسے بھی کیے اور فلسطینی عوام کے لئے چندہ بھی ا کٹھا کیا گیا. 

 لیکن اس کے برعکس، شام میں ہونے والی جارحیت کے خلاف ہر طرف خاموشی ہے. آخر کیوں؟  ہم سب خاموش کیوں ہیں؟ ہماری مذہبی، سیاسی، اور مذہبی-سیاسی جماعتیں شام کے صدر کے خلاف مظاہرہ کیوں نہیں کرتیں؟  کیا صرف امریکا اور اسرائیل کا ظلم ہی ظلم ہے اور کسی مسلمان کا کیا ہوا ظلم، ظلم نہیں؟ یا پھر یہاں آواز اٹھانے سے وہ "مفادات" حاصل نہیں ہوتے جو امریکا اور اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے سے ہوتے ہیں؟ ہم سب کا،ہماری مذہبی، سیاسی، اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا یہی دوہرا معیار، میری نظر میں ہمیں اخلاقی برتری کے مقام سے نیچے گرا دیتا ہے. ہم دوسروں کے ظلم کو بڑھا چڑھا کے بیان کرتے ہیں اور اس کے خلاف ریلیاں نکال کر عوام میں مقبولیت بھی حاصل کرتے ہیں. لیکن اپنوں کے مظالم پر 
ایک چھوٹا سا بیان دے کر سمجھتے ہیں کے فرض پورا ہو گیا.

   ہمیں ہر حال میں انصاف سے معاملہ کرنا چاہیے، اس انصاف کا پیمانہ ہر ایک کے لئے ایک جتنا ہونا چاہیے. چاہے وہ ہمارا اپنا ہو یا دشمن. یہی انسانی اخلاقیات کا تقاضا ہے اور یہی ہمارے دین کی ہدایت ہے. 

Friday, November 2, 2012

سازشی اور تعمیری ذہن


کچھ عرصہ قبل پاکستان میں سیلاب آیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا. مون سون کے موسم میں پاکستان میں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں اور زیادہ بارشوں کی صورت میں سیلاب آنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں. لیکن اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہماری حکومتوں کی جانب سے کبھی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی . نتیجہ یہ ہے کے ہر سال بارشوں کے نتیجے میں بہت جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے. لیکن ہم لوگ اپنے سازشی ذھن کو استمعال کرتے ھوے سارا ملبہ امریکا پے ڈال دیتے ہیں. سیلاب کے دنوں میں بہت سے لوگوں سے یہ کہتے سنا کے امریکا ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں سیلاب لانے کا ذمہدار ہے. مجھے اندیشہ ہے کے اپنے اس رویے کی وجہ سے، چونکے ہم نے ابھی تک سیلاب کے نقصانات سے بچاؤ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کے، اگلے سال بھی، خدا نخواستہ، "امریکا" دوبارہ پاکستان میں سیلاب کے ذریعے تباہی پھیلاۓ گا.

 اسی طرح کی ایک اور قدرتی آفت ڈینگی کی صورت میں پاکستان پے نازل ہوئی. لوگوں نے دوبارہ اس آفت کو امریکا کے کھاتے میں ڈالا اور آج بھی انٹرنیٹ پے ایسے آرٹیکل موجود ہیں جو یہ استدلال دیتے ہیں کے امریکا نے کیوبا میں بھی وار فیئر کے لئے ایسا ہی کیا تھا اور پاکستان میں بھی وہ ہی ڈینگی کا ذمدار ہے. البتہ، سیلاب کے برعکس، اس دفعہ حکومت نے صحیح سمت میں اقدامات کیے اور ڈینگی پے کافی حد تک قابو پا لیا. ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال لاہور میں ڈینگی نے ١٦٠٠٠ لوگوں کو بیمار کیا اور ٣٥٢ لوگ اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ھوے. اس سال حکومت کے بر وقت اقدامات کی وجہ سے صرف ٢٣٤ کیسز سامنے آے اور ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا. 

اب ایک انفرادی نوعیت کے واقعے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں. میرے ایک قریبی دوست کے عزیز کچھ عرصہ قبل یورپ کے ایک ملک میں روزگار کے سلسلے میں گئے. کچھ سال وہاں گزارنے کے با وجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور واپس پاکستان آ گئے.  اس دوران بہت سے لوگ یورپ گئے اور کامیاب بھی ہوے. موصوف نے اپنی سب ناکامیوں کا ملبہ اپنے والدین کی غلط منصوبہ بندی پے ڈالا اور ہمیشہ خود کو بری از زماں قرار دیا. آج انھیں یورپ سے واپس آئے کئی سال بیت چکے ہیں، لیکن آج بھی اگر آپ ان کے ساتھ بیٹھیں تو ان کی انگلی ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھتی نظر آے گی، کبھی والدین، کبھی وطن، کبھی اپنے ارد گرد کے لوگوں اور کبھی معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتے اور لعن تان کرتے نظر آیئں گے. آج بھی وہ یہی کہیں گے کے وہ ایک انتہائی با صلاحیت انسان ہیں اور زندگی میں بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن ان بیرونی اسباب کی وجہ سے وہ آج ناکام ہیں. نتیجہ یہ ہے کے، صلاحیت ہونے کے باوجود،  آج بھی وہ ایک بیروزگار اور ناکام انسان ہیں.
ان  واقعات میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں. ہم اس اصول کو انفرادی زندگی میں تو ہمیشہ مانتے اور اسی کا درس دیتے ہیں کے خود احتسابی میں ہی کامیابی ہے، کے انسان جب کسی پر انگلی اٹھاتا ہے تو ایک انگلی دوسرے کی طرف اور چار اپنی طرف ہوتی ہیں، کے اپنے آپ کو مضبوط بناؤ گے تو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، لیکن اجتمائی معاملات میں ہمیشہ اس کے خلاف عمل کرتے اور سوچتے ہیں.  میں یہ نہیں کہتا کے دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا لیکن، میرے دوست کے عزیز کی طرح، جب کوئی قوم اپنی ہر شکست، اپنی ہر کمزوری اور اپنی ہر غلطی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے لگے تو جان لیجئے کے وہ قوم ذہنی طور پر شکست خوردہ ہے، اور اپنی ناکامیوں سے جانتے بوجھتے آنکھیں چرا رہی ہے کیونکے اسی میں وہ اپنے لئے سکون محسوس کرتی ہے. ہمیں اب یہ سمجھ لینا چاہیے کے وہ قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں جو اپنی تباہی اور ناکامی میں دوسروں کی سازشیں ڈھونڈتی ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ذمہدار دوسروں کو ٹھہراتی ہے،  بلکے وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو تعمیری ذھن کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو دور کرتی اور اپنے آپ کو مضبوط بناتی ہیں. ہماری قوم کو اگر ضرورت ہے تو ایسے "سائیکولوجسٹ" کی جو اس کی سوچ کو صحیح سمت میں موڑ سکے. یاد رکھیے کے ضروری نہیں کے وہ  "سائیکولوجسٹ" اس قوم کے دانشور اور علما ہی ہوں، یہ کردار میں اور آپ بھی ادا کر سکتے ہیں. 
آئیے اپنی تباہی اور ناکامی کو غیروں کے کھاتے میں ڈالنے اور سازشیں ڈھونڈھنے کی بجاے اپنی شکست کو تسلیم کریں، اپنی غلطیوں کو دور کریں اور اپنے ذھن کو تعمیر کے راستے پے ڈالیں. یہی تعمیر اور ترقی کا راستہ ہے.