Wednesday, September 16, 2015

باریش شخص، ہوٹل میں کھانا اور نوکرانی !


کسی فلم کا ایک سین دیکھ کر پوری فلم کے بارے میں راۓ قائم نہ کریں. ہم میں سے اکثر لوگ کسی ایک "سین" کو دیکھ کر کسی شخص کے بارے میں ایک راۓ قائم کر لیتے ہیں. کسی لڑکا لڑکی کو بات کرتے دیکھ لیا تو یقیناً ان کے درمیان اس بات سے بہت آگے معاملہ ہے، کسی شخص کو آفس میں آرام کرتے دیکھ لیا تو سوچا کے یہ تو ہے ہی ہڈ حرام، اور آج کل ایک باریش شخص کی اپنی فیملی کے ساتھ ہوٹل میں کھاتے اور بظاھر اپنی نوکرانی کو ساتھ بیٹھا کر نہ کھلانے کی تصویر سے یہ فرض کر لینا کے یہ شخص کتنا سنگدل اور بے مروت ہے. 



میرے خیال سے ہمیں انسانوں کو "بینیفٹ عوف ڈآوٹ" دینا چاہیے اور اپنے ذہن کو یہ بتانا چاہیے کے تم نے مکمل فلم دیکھی نہیں، صرف ایک سین پر راۓ قائم نہ کرو. انسانوں کے بہت سے اعمال کا سیاق و سباق ہوتا ہے، وہ بہت سی کیفیتوں سے گذرتے، بہت سے حالات کا سامنا کرتے ہیں اور ہم بحیثیت انسان زیادہ تر ان باتوں کا علم نہیں رکھتے. اس لئے کوئی راۓ قائم کرنے سے پہلے ہمیں یہ ضرور دیکھ لینا چاہیے کے کیا ہمارے پاس کسی کے خاص عمل کا اتنا علم ہے کے اس کے بارے میں راۓ قائم کر لیں. اور اگر کوئی شک ہو تو ہمیں بات کی اچھی توجیہ کرنی چاہیے. بینیفٹ عوف ڈآوٹ ہمیشہ بیٹسمین کے حق میں جاتا ہے. 



اس لئے بھائیو، اس باریش انسان نے شائد اپنی نوکرانی سے پوچھا ہو کے تم کھانا کھاؤ گی اور شاید اس نے انکار کر دیا ہو، شائد وہ پہلے سے کھا کر آئی ہو، شائد اس کا پیٹ ہی خراب ہو. کیا ہم یہ سب جانتے ہیں؟ نہیں نہ. تو دے دیجیے بینیفٹ عوف ڈآوٹ . 


لوگوں کے بارے میں بدظنی سے بچ کر جیو. 

Sunday, September 13, 2015

Scattered Thoughts 2015

Following are some of my scattered thoughts, which i shared on my Facebook profile as statuses. I do not claim that such thoughts were never there, but i can assure that the following ones came from my heart and mind. 

زندگی کے ساتھ سوتیلے بچوں جیسا سلوک کر کے ہم چاہتے ہیں کے وہ ہمیں  ماں کی طرح پیار کرے
"After treating life like a step child, we expect it to love us like a mother"

(2) "یا رب ! میرے پاس تیری بارگاہ میں نذرانے کے لئے صرف شکرانہ ہے اور تجھے سے طلب صرف معافی کی."

(3) "The more you are available the less you are desired. "


(4) Love should be easy. Yes, any relationship needs struggle and compromise. But if you are saying that 'he / she does everything to stick around regardless how difficult i am' then make yourself easy for him / her.If you are saying that 'he / she keeps up with all of your crap and that is why you love him / her' then decrease your crap. Don't expect that the other person will always have the same energy. Period.

I try to live by three philosophies in my life: 1) If you want to be happy, be grateful on small things people and God do. Being grateful for big things is a normal behavior 2) No matter what, never lie to yourself. You might give excuses to others but never, ever lie to yourself 3) Empathy is scarce. Many people need it. If you can't do anything for them, your words of empathy and care will do much more than you think


(6) "ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کے انسان نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا. آج کی دنیا دیکھ کر لگتا ہے کے انسان نےاگر کچھ سیکھا تھا وہ بھی بھلا دیا."
(7) "سوچتا ہوں کے ایک نا معقول سے مصور کی بنائی ہوئی تصویر کے ایک گھٹیا سے جریدے میں چھپ جانے سے ہم مسلمانوں کا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے، ہماری دینی حمیت جاگ جاتی ھے لیکن جو دین کے نام پر لوگوں کو جلا رہے ہیں اور اسلام سے نا صرف غیروں کو بلکہ مسلمانوں کو بھی خائف کر رہے ہی ، ان کے خلاف تمام عالم اسلام میں ایک بھی جلسہ، ایک بھی ریلی نہیں نکلی، ان کے خلاف ایک مسلمان فوج بھی کھڑی نہیں ہوئی. یہ ہماری دینی حمیت بہت عجیب نہیں؟"

Saturday, September 12, 2015

بچوں کو نظر انداز ہونا سکھائیں


آپ سوچیں گے کے یہ میں نے کیا کہ دیا. لیکن ذرا ٹھہریے.

والدین فطری طور پر پہلے بچے کو پوری توجہ دیتے ہیں. اسے تو کیا اس کی ناجائز خواہش کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا. اگر والدین کی اکلوتی اولاد ہو  تو ٩٠ فیصد چانس ہے کے اس  میں مختلف قسم کی بری عادتیں پیدا ہو چکی ہوں گی. جیسے ہر وقت توجہ کا مرکز رہنے کی عادت، جیسے ہر خواہش کے پورا ہونے کی عادت وغیرہ وغیرہ. 

لیکن جونہی دوسرا بچہ ہوتا ہے تو یقدم پہلے بچے کو چھوڑ کر تمام توجہ دوسرے بچے پر مرکوز ہو جاتی ہے. پہلا بچہ  نظر انداز ہونے کا عادی نہیں ہوتا اس لئے وہ اپنے بہن یا بھائی کو ایک رقیب کے طور پر دیکھنا شروع کر دیتا ہے. پھر یہ ہوتا ہے کے دوسرے بچے کی ناجائز خواہش کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا  جبکہ  پہلے بچے کی جائز خواہش کو بھی کبھی کبھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے. خاص طور پر جب دوسرا بچہ ، پہلے کے مقابلے میں کسی بات کی خواہش کرے، تو ہمیشہ پہلے کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے. 

میرے خیال سے یہ صورت حال پہلے بچے کی نفسیات کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے. اور اس میں اپنے بہن بھائی کے لئے محبت سے زیادہ ایک رقیب کا جذبہ ابھرتا ہے. وہ اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھتا ہے جس نے آ کر اس کے تمام حقوق پر قبضہ کر لیا ہو. جس نے اس سے اس کے والدین کی تمام تر توجہ چھین لی ہو. اس سے مخاصمت کا جذبہ ابھرتا ہے اور کئی دفع یہ احساس پوری زندگی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا.

اس لئے اپنے بچوں کو نظر انداز ہونا سکھائیے .خاص طور پر جب ایک بچہ  دوسرے کے مقابلے میں کوئی ضد کر رہا ہو تو انصاف سے فیصلہ کیجیے اور غلط ضد کرنے والے کو نظر انداز کیجیے. بچوں میں یہ احساس پیدا کیجیے کے اصل دنیا میں غلط مطالبہ تو کیا، کبھی کبھی صحیح مطالبے کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے. اور سب سے بڑھ کر انھیں اپنے عمل سے یہ بتائیں  کے آپ ان سب کو برابر توجہ دیتے اور برابر نظر انداز کرتے ہیں. 

Sunday, January 18, 2015

An Open Letter to Charlie Hebdo

Dear Charlie Hebdo

I hope this letter will find you in the best of your spirits. 

First of all i would like to offer my condolence for the murder of the journalists and individuals who lost their lives in the recent attacks on your office in France. However, let me make it clear that I am not apologizing, because the people who did those attacks do not represent me, many peaceful law abiding Muslims and our Prophet (pbuh). 

I am sure you must be wondering how can a Muslim be calling you 'dear', wishing you 'best of free spirit' and condoling with you, especially after you blasphemed about Muhammad (pbuh), who is dearer to me more than my own family and life. Well it is because the same Prophet (pbuh) taught me to 'repel evil by that which is better and the one who is hostile to you will become as a devoted friend' (Al-Quran 41:34-35).

I think you do not know much about Muhammad (pbuh), hence i believe the cartoons you draw also do not represent Muhammad (pbuh). Lemme enlighten you about him (pbuh). Lets go 1400 years back, imagine you were running your magazine in his (pbuh) era. I am sure you must be terrified by that thought but, trust me, your blasphemy is so petty and ignoble compared to the ones his (pbuh) enemies did. They threw garbage and stones on him, they called him names, they even wrote songs to humiliate him, they mocked him in every possible way. But he (pbuh) forgave all of them. You want to know what happened to the woman who used to throw garbage on him? One day she did not 'blaspheme', so he went inside her house to check if she was fine. He took care of her, as she was sick. Such would have been his response towards you as well. So relax and ponder again if the person you are portraying in your magazine is the same Prophet or the creation of your own stereotypical mind and limited knowledge? 


Now lets come back to 21st century. Let me tell you why we Muslims feel offended when you judge our Prophet (pbuh) based on the acts of a minority of extremists in Muslims. You see, your society cherishes freedom of speech (or should i say a hypocritical freedom of speech?). Whereas, an Islamic society cherishes the same value, but with the basic and more strong value of 'respect'. Islam teaches the younger ones to be respectful to their elders, faithfuls to never disrespect the gods (and holy personalities) of other faiths and most importantly to respect all the Prophets without any discrimination. We love Muhammad (pbuh) and all other prophets, more than anyone in this world. We have been taught this value from the time we were born. Now, for you there can be two ways to go about it. Either respect our value and we will respect yours, or you can malign your own values by misusing them.

You also need to see what you are fostering in your society. Lets go 50 years ahead from now, 2065. Kids in schools in France, draw cartoons of parents of their schoolmates, or their own teachers or elders - nasty, disrespectful, mocking cartoons. They draw cartoons of the 12 people killed in Charlie Hebdo attack or thousands who were killed in 9/11. They make cartoons of blacks, whites, Buddhists, Jews, Muslims or Christians. And when they are asked why they are doing this, they will respond "Je Suis Charlie". Are you developing a society based on mutual respect and coexistence or mutual hatred and mockery? Do you think this will lead towards a tolerant, civilized society? I highly doubt it. 

So Charlie, even now you have time to think, to mend your way, to direct your society towards high moral values instead of disrespect and mockery. I am saying for the betterment of your own society, otherwise Muhammad, Jesus (pbut) and other holy personalities and their respect is too big for a cartoon to bring it down. But if you still want to continue, then mark my words, there will come a day when Charlie Hebdo will be an icon for mockery, disrespect and misogyny. You will be remembered in the worst possible way. You will be remembered for your role to increase tension between Islam and West, to create chaos in the world. Choice is yours.  

Yours sincerely

A Muslim 





Saturday, January 10, 2015

توہین رسالت کے حوالے سے مسلمان بھائیوں سے 6 سوال !


آج کل توہین رسالت کے حوالے سے بہت بحث ہو رہی ہے. فرانس میں توہین کے مرتکب صحافتی ادارے کے ١٢ صحافیوں کے قتل پر بینالاقوامی برادری، خاص کر مغرب نہایت نالاں ہے. کچھ ملکوں اور سوشل میڈیا پر شدت پسندوں اور اسلام کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں. البتہ مسلمانوں میں اس واقع پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا. کچھ لوگ اسے سفاکی اور کچھ لوگ بلکل اسلام کے مطابق اور توہین کے مرتکب ہونے کی وجہ سے سزا کے مستحق لوگوں کا انجام قرار دے رہے ہیں. غرضیکے ایک طرف مغرب اپنی آزادی اظہار کی قدر پر کسی طرح کی قدغن لگانے کے لئے تیار نہیں، یر وسری طرف مسلمان اپنے نبی کی عصمت پر اٹھنے والی کسی بھی آنکھ کو صرف  نکال دینے پر یقین رکھتے ہیں. 

اس ضمن میں میرے ذہن میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کچھ سوال ہیں. امید ہے آپ جذبات سے نکل کر ان سوالوں کا جواب سوچیں گے. 


١) بیشک حضور (ص) تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے. ہم مسلمان اس بات کا جائز طور پر پرچار بھی کرتے ہیں. لیکن ایسا کیوں ہے کے ہم یہ بات کرتے ہوے تو حضور کے درگزر کو بیان کرتے ہیں. یہ بیان کرتے ہیں کے انھوں نے کوڑا پھینکنی والی، (توہین رسالت کی مرتکب خاتون), کو نہ صرف معاف کیا بلکے اس کے ساتھ حسن سلوک کیا، مکّہ میں فاتح کی حیثیت سے پہنچنے پر تمام دشمنوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور انھوں نے منافق عبدللہ بن ابی کا جنازہ پڑھایا وغیرہ وغیرہ. لیکن وقت آنے پر, یعنی جب کوئی توہین کرتا ہے, تو ہم یہ سب واقعات چھوڑ کر ان واقعات کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں آپ (ص) نے کسی شخص کے قتل کا حکم دیا. ایک دفع ایک غیر مسلم نے سوال کیا کے کیا تمھارے نبی صرف طاقت حاصل ہونے تک رحمت تھے اور بعد میں انھوں نے اپنے مخالفین کو مارنا شروع کر دیا؟ اس کا جواب میرے پاس تو تھا. میرا سوال آپ سے یہ ہے کے کیا ہمیں آپ (ص) کے پہلے والے واقعات کو ماننا چاہیے یا دوسرے والے؟ اگر دوسرے والوں کے مطابق عمل کرنا چاہیے تو پھر رحمت اللعلمین کہتے ہوے کیا ہم پہلے والے واقعات کا پرچار کر سکتے ہیں؟ 


٢) ایک دن ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا. یعنی توہین مسجد کا مرتکب ہوا. حضور (ص) نے صحابہ کو اس پر سختی کرنے سے روکا اور کہا کے یہ نہیں جانتا. اس کے بعد اسے بلا کر سمجھایا اور بھیج دیا. کیا آج کا غیر مسلم اس بدو سے بہتر ہے؟ غیر مسلم تو چھوڑئیے، کیا آپ بطور مسلمان جانتے ہیں کے حضور نے ١١ شادیاں کیوں کیں؟ انھوں نے غلامی کو گوارا کیوں کیا؟ ان کے لاۓ ہوے قرآن میں "جہاں پاؤ قتل کردو" والی آیت کیوں ہیں؟ ان کے لاۓ ہوے دین میں اچھی موسیقی اور تصویر کیوں حرام ہے؟ اس میں عورت کی گواہی کیوں آدھی ہے؟ میں جانتا ہوں کے اکثریت مسلمانوں کو ان باتوں کا جواب نہیں پتہ. اس کے ساتھ ساتھ، آج کل مسلمان بد دیانت ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، بے ایمانی کرتے ہیں، ان کے ملک غریب اور کرپٹ ہیں. ان کے نام کے ساتھ دہشت گرد جڑا ہوا ہے. تو پھر اگر آپ اپنے آپ کو عام غیر مسلم کی جگہ پر رکھ کر سوچیں تو آپ کی کیا راۓ ہوگی اسلام کے بارے میں؟ کیا اگر وہ بدو معافی کا حقدار تھا، تو آج کا غیر مسلم نہیں؟ 


٣) حضرت عمر (رضی الله) اسلام قبول کرنے سے پہلے حضور (ص) کو نعوز باللہ شہید کرنے گئے، یعنی ایک بہت بڑی گستاخی کی سوچ سے، لیکن اسلام لے کر لوٹے. اسی طرح ایک ناروے کا منسٹر جو سخت اسلام مخالف تھا، وہ اسلام قبول کر گیا. اگر حضرت عمر کو راستے میں کوئی شخص توہین رسالت کی وجہ سے شہید کر دیتا یا اس منسٹر کو کوئی شخص مار دیتا، تو کیا یہ لوگ اسلام قبول کر پاتے؟ تو کیا ہمیں کسی گستاخ کو واصل جہنم کرنا چاہیے یا اپنے اخلاق، اسلام کی صحیح تعلیم اور حضور (ص) کی صحیح شخصیت سامنے رکھ کر اسے واصل جنت کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے؟ 

٤) ایسا کیوں ہے کے اسلام جب دعوت میں ڈھلتا ہے تو دلوں کو مسخر کرتا ہے. تاتاری مسلمانوں پر حملہ اور ہوتے ہیں، اور اسلام قبول کر لیتے ہیں. تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی، اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن اور اس طرح کے دوسرے دعوتی ادارے بہت سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرتے ہیں. لیکن جہادی تنظیمیں غیر مسلموں کو اسلام سے متنفر کرنے کا با عث بن رہی ہیں. کیا اسلام کی اصل طاقت اس کے پیغام میں ہے؟ جو دل و دماغ کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یا اس کے پیغام کو پہنچانے کے لئے تلوار کی ضرورت ہے؟ 

٥) ایک شخص جو حضور (ص) کے بارے میں کم علمی یا غلط انفارمیشن کی بنیاد پر کوئی توہین آمیز بات کرتا ہے، اس کو مار دینے سے کیا اس غلط بات کی نشاندہی ہو پاۓ گی؟ کیا اس کو مارنے سے بہت سے دوسرے لوگوں کے اذہان، جو ایسی باتیں اپنے دل میں رکھتے یا وہ جو انھیں بیان کرتے ہیں، بدل جائیں گے؟ کیا ان کے لواحقین اور ان کے ارد گرد کے لوگ، ہم وطن، اور ان کی سوچ رکھنے والے لوگ اسلام سے متاثر ہو پائیں گے؟ یا ان کے دل اسلام، اور پیغمبر اسلام (ص) سے مزید متنفر ہو جائیں گے؟ 

٦) کیا ہم سب مسلمان مجموعی طور پر ایک اچھے امتی ہیں؟ کیا ہم حضور (ص) کی طرح سچے، ایماندار، نفیس، نرم گو، خدا کا خوف اور اس سے محبت رکھنے والے اور یتیموں کے والی ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ایسا تو نہیں کے مجموعی طور پر ہم سب توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ کیا ایسا تو نہیں کے اسلام کا سب سے برا تعارف ہم خود ہیں؟ یا واقعی ہم میں کوئی خرابی نہیں، سب غیروں کی سازش ہے؟ 
یہ سب سوال میری طرح اور بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہیں. ان کے بارے میں سوچئے، ان کا جواب تلاش کیجئے اور اگر ہوسکے تو آج کے غیر مسلم کے جوتے میں پیر رکھ کر بھی مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں راۓ قائم کیجئے. 

Monday, December 22, 2014

Pakistan is Under Construction

What did you just say? Pakistan is under construction? Really? Are you going nuts? Were you suppose to write Destruction? 

How can a country which is the 'capital of suicide bombing'* (with nearly 432 terrorist suicide attacks, resulting in approximately 16,159 causalities, since 1995**), which is facing worst of political and economical crisis and where religious intolerance is at its peak, be under construction? 

I understand the surprise, which this title must have given you. Understandably, for most of us, Pakistan is moving towards a failure state and until recently, i was also feeling the same. However, some of the recent incidents made me feel that, Pakistan is under construction. The apparent destruction is the destruction of our old "building". To build a new building, one has to detonate the old one, and that is what precisely happening in Pakistan. There are multiple reasons why i believe so.

Lets start with Politics. Recently, there has been three major changes in the overall political scenario of Pakistan. First is the emergence of third political power, Pakistan Tehreek Insaaf (PTI). One can disagree with many of Imran Khan's decisions (so do i), but one can not negate that his appearance in Pakistani politics has brought the existing politicians on their toes. Second is the national consensus on Democracy. Since last 7 years, the whole nation, especially the Army of Pakistan, has decided to give chance to democracy. More recently, during the peak of political tension, the armed forces of Pakistan remained neutral and despite all the odds, it did not overtook the government. In a country where, only one government completed its tenure of five years, this is a big change in the mindset. 

Thirdly, in international politics / relations, the recent unfortunate 16/12 incident of Peshawar school killing, 'known as the 9/11 of Pakistan', brought the whole nation on the same page against extremists. The page on which there is no distinction between good and bad Talibans, the page which demands the national leadership to revisit the 'strategic depth' which was adopted in 1980s, the page which highlights, that in order to curb terrorism at home, we should not support terrorism in our neighborhood as well. This has changed the overall approach of our national leadership towards Talibans after at least 35 years. 

The second major change is in the sphere of religion. After the 16/12 incident, the members of civil society staged a protest outside the Red Mosque, which was supporting extremists and was trying to find excuses in support of Talibans. This has rarely happened in Pakistan, which shows that people are sick of extremist elements in society. Similarly, the alleged blasphemy incident of pop star turned Muslim 'evangelist', Junaid Jamshed, has also brought the problem at the door of religious groups. People are realizing that respecting the differences in opinion and living in harmony with differences is the key towards a healthy society. 

Moreover, the educated people of Pakistan are confused and hence questioning the conventional interpretation of religion. While listening to Sami Yusuf, they can not grasp the interpretation which considers all forms of music and musical instruments as forbidden. While taking a picture with their mother, they can not comprehend why taking pictures are not allowed in Islam. While seeing thousands being killed in the name of religion, they find it hard to relate, what is happening currently in Pakistan, with their perception of Islam, which is peace. It is incomprehensible for them that a man's testimony is equivalent to half of woman's (why woman is inferior to man?). And many more questions now bother them. They want answers and they do not want to be slapped with the notion that belief is not to be questioned. After the information revolution, they easily come across atheists, agnostics and people of other religions and they can not simply defend their faith by saying that it is written in Quran or Hadith. 

The aforementioned 'construction' in religious and political spheres has been possible due to a free media. The biggest enabler of this change. The media, with over 100 independent and private channels and with all the negative sides of it, is opening the eyes of the nation. There is no doubt that Pakistan's media does not act responsibly on many occasions, but at least it has made everything transparent and accountable. For example, it was not possible for the third political power to gain public support and neither it was possible to bring unity in nation against extremism, without the support of media. Moreover, there are open discussions on various topics of religion, sociology, politics and economics. Media has made it almost impossible for a politician to openly mistreat poor people and run away with it. The media is even raiding the businesses which are cheating with their customers by selling spoiled products. Hence, the media is holding everyone accountable and under investigation. Nothing (not even a petty, irrelevant and unnecessary event) can hide from the eyes of media.  

The above factors, in my humble opinion, lead me to the conclusion that Pakistan is not destroying, rather it is under construction. There will definitely be further destruction and hardships, as the old building was a skyscraper, which will take a while to fully demolish, but the process has begun. There is definitely hope with a nation which has abundance of awakening and talented young blood, a soil full of natural resources and a religion which is nothing but peace for the whole human kind. All it needs is patience and unity. 

References:

* 'The suicide bomb capital of the world': http://www.atimes.com/atimes/South_Asia/MI16Df04.html
** Suicide Bombing Stats: http://pakistanbodycount.org/suicide_bombing

Tuesday, October 14, 2014

Can Hatred bring back Malala?

"Malala Syndrome" is back. Last year, i wrote about Malala with the title of "Malala Syndrome and the Extremists". I tried to explain how the critics and admirers of Malala have taken an extreme disposition, and how Malala will be a fad like Mukhtara Mai. 

Same is happening now. The "extremists" of west have given her the highest award and this, unfortunately, will start the decline of Malala, as this award is already her peak. West usually gives such awards on political basis, that is why even Obama gets noble peace award after bombing Iraq and Afghanistan. In Malala's case, the objective is to malign Taliban and get the support of the world against their extremism. Malala is just a symbol and a tool for west.

Like many others i also believe that she, until now, did not deserve the award of such prestige. The point is simple. She has not achieved anything substantial, solely on her own. Whatever limelight she achieved until now, simply happened to her. She was writing a diary for BBC, then she got shot by Taliban, she flew to United Kingdom, West brought her in limelight and now she has got a perfect platform to work for the cause she stands for. Although, it is easier said than done, she could have returned to Pakistan and could have rejected the help and all the limelight from US and do something substantial for the underprivileged women of Pakistan. Having said that, i do admire her for her courage and vision in this young age. The way she carries herself in a respectful and traditional manner, the way she communicates and the cause she stands for, all are commendable. 

On the other hand, the hatred towards Malala has increased in the hearts of her haters. Malala's haters have, once again, lost their control and have started to throw filth on her, which i think is unjust. Firstly, the 'Malala Haters' should remember that all the conspiracies they made up, when she was shot, were proven wrong. Hence their basic 'hating-Malala' factor was proven wrong. Secondly, while they criticize who she is standing with, they should also see who she is standing against. Is she standing against Islam, Pakistan or Talibans? I think it is Talibans and their extremism. If US is our enemy, then Talibans have also not proven themselves to be the well wishers of Pakistan. Malala has became a voice against the extremist behavior of Talibans. 

Now do the Malala-Haters agree with Taliban and their extremists views? I am sure many of them do not agree with Talibans but they hate her because they believe that she is getting all the support and limelight from US and is acting as a friend and puppet of US and its agenda. But is this really enough reason to hate her? and did we leave any room for her to come back? 

Hence my questions to my country mates are that can we bring back our own daughter from US?Do we agree with her cause? Does women in Pakistan need more attention, equal opportunities and education? If yes then can we protect Malala in Pakistan and stand beside her for her cause? If the answer to all of the above is No, then we need to rethink our hatred towards Malala. 

But if you, at least, agree with Malala's cause, then do something to bring back your daughter. Malala can come back, provided if rather than US, we, Pakistanis, stand beside her for the cause she is standing for. She can come back, if she will see more love and support from within her country. She can come back if she will know that her own country is standing united beside her against extremism. 

Once US hijacked Malala, lets "hijack" her back. 

Thursday, May 1, 2014

کیا پاکستانی میڈیاغدارہے؟

 پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کا میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے. وکیپیڈیا کے مطابق پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی تعداد ١٠٠ کے لگ بھگ ہے. یہ چینلز تفریح،   تعلیم،   خوراک،   فیشن،   موسیقی،   فلم،   نیوز،   مذھب،   کھیلوں،  بچوں، علاقائی زبانوں اور انٹرنیشنل چینلز پر مشتمل ہیں.   ان سب میں سر فہرست تفریح سے متعلق چینلز کی تعداد ہے جو لگ بھگ ٣٠ ہے.تفریح  کے بعد سب سے زیادہ تعداد خبروں سے متعلق چینلز کی ہے جو تقریباً  ٢٠ کے لگ بھگ ہیں. 
آزادی خدا کی نعمت ہے لیکن ہر نعمت کی طرح انسان اس نعمت کا بھی سوء استعمال کرتا اور حدود سے تجاوز کرتا ہے. میڈیا کی آزادی پاکستان کے لئے یقیناً خدا کی نعمت ہے لیکن یہ بات بھی امر واقعہ ہے کے اس شتر بے مہار میڈیا کے بہت سے نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں. 
 یہ میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو شہرت ملی،اسی کی وجہ سے غریب عوام کو طمانچے مارنے والے سیاست دان بے نقاب ہوے، یہ میڈیا ہی ہے جس نے اچھے اہل علم کو یہ موقع دیا کے وہ اپنی بات عوام الناس تک پہنچا سکیں اور آج میڈیا کی ہی بدولت ہمارے حکمران یہ نہیں سوچ سکتے کے وہ کوئی اقدام کریں گے اور انھیں عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا پڑے گا.

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کے یہ میڈیا ہی ہے جس نے شعیب ثانیہ شادی اور سکندر زمرد جیسے غیر اہم اور چھوٹے معاملات کو غیر معمولی کوریج دی، آرمی بیس پر حملے اور ڈی آئ خان کی جیل جیسے حساس معاملات کو غیر ذمداری سے لائیو ٹرانسمیشن میں چلایا، ایک صحافی پر قاتلانہ حملے کے جواب میں آئی ایس آئی کے چیف پر بے بنیاد الزامات لگاے اور ٨ گھنٹے تک یہ ٹرانسمیشن چلائی، مذھبی پروگراموں کو بھی منافع کمانے کا ذریعہ بنایا اور اپنے پروگراموں کے ذریعہ معاشرے میں فحاشی اور ایسی روایات ،جن کا ہماری تہذیب سے دور دور کا تعلق نہیں، کو پھیلانے میں نمایاں کردارادا کیا.

 ہمارے ہاں عام  طور پر میڈیا کے انہی "سائیڈ  افیکٹس" کی وجہ سے بہت سےلوگوں  کا خیال ہے کے میڈیا اصلاً بیرونی قوتوں کا آلہ کار ہے اور ان کی ایما پر پاکستان میں فحاشی اور مغربی اقدار کا فروغ کر رہا ہے. اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتا ہے کے میڈیا یا کچھ چینلز غدار ہیں اور ملک مخالف ایجنڈا رکھتے ہیں. یہ تنقید  عام طور پر میڈیا  کے خبروں، تفریح اور مذھب سے متعلق پروگرامز اور چینلز پر ہوتی ہے . 
 میری ناقص راۓ میں یہ سوچ صحیح نہیں. یہ اسی سازشی طرز فکر کا شاخسانہ ہے جسے ہم بحیثیت  قوم باقی معاملات میں بھی بروے  کار لاتے ہیں. میں اپنے نقطہ نظر کو چند مثالوں سے واضح کرنا چاہوں گا.
 پہلے تفریح کو لیجیے. میں جب بھی پاکستانی میڈیا پر بھارتی ڈراموں یا فلموں کودیکھتا ہوں تو مجھے اپنے شہر کا وہ ویڈیو سینٹر ذہن میں آتا ہے جو نہ صرف انڈین موویز بیچتا ہے بلکے ان موویز کو بھی بلیک میں بیچتا ہے جن پر پاکستان کا سینسر بورڈ ان کے 'پاکستان مخالف' ہونے کی وجہ سے پابندی لگا دیتا ہے. اور عوام دونوں طرز کی موویز شوق سے خریدتی اور دیکھتی ہے. میں سوچتا ہوں کے کیا ویڈیو سینٹر کا مالک، اور یہ عوام، غدار اور بیرونی قوتوں کا آلہ کار ہے؟

خبروں کی طرف آئیے. کیا صرف ہمارے چینل بے بنیاد، حقائق اور تحقیق کے بغیر خبر پھیلاتے ہیں؟ کیا حامد میر کے معاملے میں جو جیو نے کیا، پارکس میں بیٹھے جوڑوں کے متعلق جو مایا خان نے کیا، کیمرے کے پیچھے جو عامر لیاقت نے کیا، کیا یہ سب صرف میڈیا ہی کرتا ہے؟ نہیں. یہ ہمارے معاشرے میں پھیلے روز کے جرائم ہیں. ہم دن کے ٢٤ گھنٹے تحقیق کے بغیر دوسروں پر  بے بنیاد الزامات لگاتے، انھیں کافر، مرتد، مشرک اور زانی قرار دیتے ہیں. ہم ہمیشہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم سب "کیمرا" بند ہونے کے بعد وہی زبان استعمال کرتے ہیں جو عامر لیاقت صاحب نے کی. کیا ہم سب غدار اور بیرونی قوتوں کے آلہ کار نہیں؟ 

مذھب کو لیجئے. کیا مذھب کے بارے میں صرف میڈیا ہی غیر حساس ہے؟ کیا مذھب کو نفع کے لئے صرف میڈیا استعمال کرتا ہے؟ کیا مذھب کے نام پر جو چیزیں میڈیا دکھا رہا ہے وہ عوام میں موجود نہیں؟ کیا جن لوگوں کو میڈیا عالم کے طور پر پیش کرتا ہے، ان کے کوئی پیروکار عوام میں نہیں؟
میرے نزدیک میڈیا دوسرے اداروں کی طرح منافع بخش ادارہ ہے جس کے مالکین پاکستانی ہیں اور اسی عوام سے ہیں جس عوام کا ذکر میں نے اوپر کی سطور میں کیا. ہمارے میڈیا چینلز کو کوئی بھارتی یا امریکی نہیں چلا رہا بلکہ  وہ اخلاقی زوال چلا رہا ہے، جو پاکستانی سماج کے ہر کونے، ہر ادارے اور ہر شخص کو چلا رہا ہے. یہ ادارہ بلکل عوام کی طرح صرف اپنے منافع کا سوچتا ، خبروں، تبصروں اور ڈراموں میں الزامات، جھوٹ اور بےحیائی کی ملاوٹ بھی کرتا  اور اس کے ساتھ ساتھ  اچھے کام بھی کرتا ہے. خورشید ندیم صاحب نے کیا خوب بات کہی کے سماج میں کبھی جزیرے نہیں بنتے، زوال آئے تو ہر طرف آتا ہے. یہ نہیں ہو سکتا کے عوام تو سب کی سب اخلاقی زوال کی آخری حدوں کو چھو رہی ہو لیکن ادارے اخلاقیات کے اونچے مقام پر کھڑے ہوں. یہ ممکن نہیں کے پورا معاشرہ بے لگام اور بغیر کسی سمت کے چل رہا ہو، اور اس عوام کا ایک ادارہ بلکل صحیح سمت میں چل رہا ہو.
اس کے ساتھ ساتھ بارہا ایسا بھی ہوتا ہے کے ایک ادارے یا اس کے کرتا دھرتا لوگوں کا نقطہ نظر ہی، مثال کے طور پر، لبرل ہے اور وہ اپنی آرا کو پھیلانے کے لئے اپنے نقطہ نظر کی  حامی قوتوں سے امداد بھی لیں. میری ناقص راۓ میں یہ کوئی غداری یا بیرونی قوتوں کا آلہ کار بننے کے مترادف نہیں ہے. یہ صرف نقطہ نظر کا اختلاف ہے. البتہ اس نقطہ نظر سے ہمیں اختلاف ہو سکتا ہے اور ہم اس کے برخلاف اپنی بات کو لوگوں تک پہچانے کے لئے راستے ہموار کر سکتے ہیں. جمہوریت کا شکریہ.
 میں ساتھ میں یہ بھی کہتا چلوں کے غدار کہیں بھی پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے. لیکن کسی کو بغیر ٹھوس ثبوت کے غدار نہیں کہا جا سکتا. ہم نہ کسی کی حب الوطنی پر شک کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کے ایمان پر. جیسا کے عامر خاکوانی صاحب نے اپنے تازہ کالم میں لکھا کے "کسی کی حب الوطنی پر شک کی ضرورت نہیں، اپنے وطن سے کون محبت نہیں کرتا، نقطہ نظر البتہ مختلف ہو سکتا ہے". یہی بات مذھب اور ایمان کے متعلق بھی ٹھیک ہے. کوئی مسلمان جان بھوج کر دین سے غداری کا سوچ بھی نہیں سکتا.
اس لئے میرے نزدیک نہ تو میڈیا غدار ہے، نہ ہی بیرونی قوتوں کا آلہ کار. یہ اخلاقی انحطاط کے شکار باقی سب اداروں میں سے ایک ادارہ ہے. البتہ یہ ابھی طفل مکتب ہے، اسے ابھی ابھی پر لگے ہیں، اور میرے نزدیک اگر جمہوری اقدار کو پروان چڑھنے دیا گیا، اور احتساب اور مثبت تنقید کا عمل چلتا رہا تو جلد میڈیا میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گی. ہمارے اہل علم اور دانش کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کے معاشرے اور اس کے بڑے اداروں کے احباب حل و عقد کے اذہان بدلیں. عوام کو چاہیے کے ایسی غلطیوں پر مثبت تنقید ضرور کرے لیکن ان خامیوں کی وجہ سے کسی کو غدار اور بیرونی قوتوں کا آلہ کار کہنے سے پہلے اپنے معاشرے پر نظر دوڑا لیں. شائد پورا معاشرہ اور اپنا آپ بھی غدار، ملک دشمن اور بیرونی قوتوں کا آلہ کار محسوس ہو.
الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو. جہاں رہئے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے باعث رحمت بنئے    

Friday, March 7, 2014

International Woman Day


Dedicated to a mother's Love, to a better-half's loyalty, to a sister's care and to a daughter's innocent affection.

On this day, I hope the world realizes how, in past and even now, woman has been abused in the name of culture and religion, and how in preset, she has been exploited in the name of feminism and modernity.

Thank you God for blessing the world with Woman. Truly, as famous Pakistani poet, Allama Muhammad Iqbal said:

"It is the existence of the woman that gives the universe its colors
She is the leading instrument in the grand orchestra of life itself"

And that is why, each day is a Woman Day and each second we are indebted to her. May the world realize the importance of Woman and give her the real status she deserves. 

Friday, November 1, 2013

The Malala Syndrome and the Extremists

Malala Yousufzai, ملالا یوسفزئی، is a 16 years old girl from Pakistan. She got famous when she was exposed as the writer of blogs for BBC in which she, under a pseudonym Gul Makai, expressed her opinions towards Taliban's occupation of the area and her own struggle for women rights, especially woman education. Later, in October 2012, she was shot on head by Talibans, which she miraculously survived and flew to the UK for medication and recovery. According to the Talibans, they shot her because she was becoming a symbolic figure of US and was benefiting US agenda in the region. Since then, in my humble opinion, there have been two extremes in the case of Malala and nowadays these "extremists" have got a severe "Malala Syndrome".  This has made the whole Malala issue not only dubious but also over rated.

Right after the attack on Malala, the first extreme, "The Conspiracists", immediately started associating conspiracies with the incident. In those times, i saw and heard a number of idiotic conspiracies such as she was never shot, why would Taliban kill a small girl when it is clearly against their own norms (even when Talibans "humbly" accepted the responsibility of the attack), she has been shot by ISI or American agencies to start a new operation in north etc etc. The Conspiracist even went to the extent to add certain phrases in the Malala's Diary against beard and head scarf. Time proved almost all of these conspiracies wrong. Apart from TTP's open acceptance of the responsibility of the attack and a letter to justify their act, it is pretty much clear from Malala's face that she was shot. The 'operation-in-sawat' conspiracy was also a hoax and time has proven that no new operation started based on Malala's incident. But, for me, the behavior of these conpiracists is not new. Their opinions are 'anti-US-centric' and not 'truth-centric'. Their enmity towards US and west becomes more important than abiding by the truth and saying only what is just and right.

The other extreme is The West itself, who has exaggerated Malala's status to a level which has made the whole issue even more dubious. There is no doubt that she is a talented, God gifted, ambitious and confident girl, however awards, titles, noble prize nominations and honorary meetings with the presidents and the queen are too much for a person of Malala's caliber and achievements. It is pretty much clear now that west, especially the US, is using her to achieve its vested interests which in my opinion are propagating anti-talibanization, justifying their presence in the region and spreading their own values of freedom while criticizing eastern and Muslim practices (i carefully chose the word Muslim and not Islamic). The problem with the US, like all powers, is also that its own vested interests are more important than justice and truth. Hence to achieve their own objectives, they do not care if they attack Afghanistan or Iraq without significant evidence or give away noble prize to someone who barely deserves it.

Apart from above, the role of Malala and her father has been irresponsible and short sighted. Despite the opposition, she gained many supporters in Pakistan but she is loosing a lot of them now. Malala's recent book is also a clear indication of how she and her father are unaware or negligent towards the ground realities and sensitivities of Pakistani culture. If Malala ever wants to return to Pakistan and do something for the country, the best thing for her was to work on woman education and other related issues without using the head of west and by using her own mind and for that she could even go to the extent of refusing all the special treatment from the west.

Despite all the above analysis, i strongly believe that Malala and her book are, unfortunately or fortunately, a fad. A fad like Mukhatara Mai, which will not be remembered after few years. However i strongly believe that, before US hijack, it would have been much much better if our own people, our own country and the intellects of this country, could respect the individuals like Malala and Mukhtara, symbolically, to promote the causes which they stand for. Just the way they stand for Aafia Siddiqui. In this way, there would be less chances of exploitation of such people and propaganda against Islam and Pakistan. Sometimes one incident or personality becomes the symbol of a cause and that spurs the change in the society. However it is not possible without patience and "conspiracy-less" mind and until we will start accepting our own shortcomings. Till then, lets wait, till these "extremists" are "cured" of this Malala Syndrome. 

Tuesday, September 17, 2013

جاوید غامدی صاحب کی قدم بوسی

ایک بڑے انسان اور عالم سے ملاقات جتنی دفعہ ہو، کم ہے. ہر ملاقات میں اس کی شخصیت اور علم کے مختلف پہلو سامنے آتے رہتے ہیں. وہ کہتے ہیں نہ کے ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے، شائد یہ بھی کہتے ہوں کے ایک اچھی کتاب انسان کو سو علما کے علم کا نچوڑ بتاتی ہے، میرے مطابق سب سے بڑھ کر، ایک عالم کی صحبت انسان کو سوؤں کتابوں میں موجود ہزاروں علما کے علم کا نچوڑ سکھاتی ہے.

میں ان خوش قسمت گنہگاروں میں سے ہوں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کے وہ اپنے زمانے کے بڑے اہل علم سے مل سکیں، ان کی نجی محفلوں میں ان کی صحبت سے فیض یاب ہو سکیں، اور ہزار کتابوں کا نچوڑ چند گھنٹوں کی نشست میں سیکھ سکیں. جب اپنے اعمال پر نظر پڑتی ہے تو سوچتا ہوں کے قیامت کے دن الله تعالہ کے سامنے کس منہ سے جاؤں گا، اس بات کا کیا جواب دوں گا، کے "میں نے تمہیں اپنے وقت کے اعلی ترین عالم کی صحبت دی، تم نے اس صحبت سے کیا علمی اور عملی فائدہ اٹھایا اور کس طرح  دین کے کام میں اس کی مدد کی؟" الله مجھے عمل کی توفیق عطا فرماے.آمین 

اس دفع جاوید احمد صاحب غامدی سے ملاقات ہوئی تو ایک سوال کے جواب پر میں سوچنے لگا کے کیا ہمارے معاشرے میں پیدا ہونے والا ایک دینی عالم ایسا بھی ہو سکتا ہے. اپنی قسمت پر رشک آنے لگا کے خدا نے ایسے عالم کا قرب عطا کیا. غامدی صاحب سے جب میں پہلی دفع ملا تو میں نے ملاقات کے آخر میں ان سے ایک نصیحت کی درخواست کی، ان کے الفاظ تھے کے "کبھی بھیکسی کے اسیر مت بننا، میرے بھی نہیں. میں انسان ہوں اور غلطی کر سکتا ہوں." اس کے بعد انھوں نے مجھے تین بڑے مکاتب فکر کی نمائندہ کتب کے نام بتاے اور مجھے کہا کے میں ان کی کتاب "میزان" کے ساتھ ساتھ ان کتب کا مطالعہ بھی کروں. اس میں مولانا مودودی کی "الاسلام " اور شاہ ولی الله کی "حجتاللہ بالغہ" شامل تھیں. پہلی ملاقات میں غامدی صاحب کی کہی ہوئی اس بات کا اثر ہمیشہ ذہن پر تازہ رہتا ہے.

پچھلے دنوں جب میں غامدی صاحب سے دوبارہ ملا تو نشست کے اختتام پر میں نے کچھ دوستوں کا سلام ان تک پہنچایا اور ساتھ میں ڈرتے ڈرتے ایک اور دوست کی یہ بات ان تک پہنچائی کے میں ان کی طرف سے غامدی صاحب کے پیر چوموں، ان کی شدید خواہش ہے کے اگر انھیں زندگی میں موقع ملا تو وہ غامدی صاحب کے پیر چومنا چاہیں گے. اس پر غامدی صاحب ایک دم سیدھے ہو کر بیٹھے اور ذرا سے سخت الفاظ میں کہا کے ان سے کہیں کے ایسا سوچنا اور کرنا چھوڑ دیں، ایک معلم سے اتنی عقیدت کی وجہ سمجھ نہیں آتی. میں نہ تو کوئی پیر ہوں نہ ہی کوئی نبی. میں نے ان سے استفسار کیا کے استاد سے عقیدت تو پیدا ہو ہی جاتی ہے. انھوں نے جواباً کہا کے الله ہم سے یہ تقاضا کرتے ہیں کے ہمارے اندر پیدا ہونے والے پرستش کے ہر جذبے کا رخ صرف اور صرف اسی کی طرف ہو . اور دل میں پیدا ہونے والے ایسے تمام عقیدت کے جذبات کا رخ رسول الله کی طرف. 

ان دونوں واقعات کو جب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے ایک عظیم انسان اور عالم دین نے کس طرح میرے اندر اس کے لئے پیدا  ہونے والی عقیدت کا رخ صحیح سمت میں موڑ دیا اور کس طرح اس نے مجھے شخصیت پرستی میں مبتلا ہونے سے بھی  بچا لیا . کبھی کبھی  کچھ دوست مجھ سے سوال کرتے ہیں کے کیا غامدی صاحب دین میں ایک نیافرقہ نہیں بنا رہے. میں ہمیشہ ایسے دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کے جو شخص اپنے آپ کو انسان اور طالب علم کی جگہ پر رکھتا ہو، اپنے علم میں غلطی کا امکان مانتا ہو، اپنے پیروکاروں کو اپنےعلاوہ دوسرے علما اور مکاتب فکر کے علم سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتا ہو،اورانہیں اپنا ہی اسیر بننے سے ہمیشہ روکتا ہو وہ شخص کبھی نیا فرقہ نہیں بناتا. ہاں یہ الگ بات ہے کے اس کے بعد آنے والے لوگ ایسا کر دیں کیونکےایسا ہونا تو انبیا بھی نہیں روک سکے. البتہ اپنی زندگی میں غامدی صاھب، انبیا کی سنت پر عمل کرتے ہوے، ہمیشہ تفرقہ بازی اور شخصیت پرستی کے خلاف برسر جنگ ہیں. میری ناقص راے میں اگر ہمارے علما صرف انہی چار نکات پر اپنے پیروکاروں کی تربیت کریں تو یقینن ہمارے معاشرے میں پیدا ہونے والے مذھبی لوگوں کے رویوں میں بہت تبدیلی آ جائے گی.

 الله دین اسلام کے تمام اہل علم کو لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرماے، انھیں دین کی مزید خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے. اور مجھ جیسے کم علم گنہگاروں کو ان کے علم سے فائدہ اٹھا کر اپنے عمل میں بہتری کی توفیق عطا فرماے. آمین . 

Friday, July 19, 2013

The Lesson of Artificially Implanted Trees

Everything in this universe is coherent. The laws governing the nature and the laws governing our lives and the social phenomenons around us, they all are coherent. Therefore for an observer, the whole universe is a library. He attains peace by learning and aligning himself with the laws of nature
From the Diary of an Observer


Few years back, in one of the cities of Pakistan, palm trees were artificially implanted to beautify the road sides. The local government spent millions to buy and implant those trees. There is no doubt about the fact that, in those days, the road sides were giving a scenery of a well developed Arab city, like Dubai. However, the reality was that neither the plants had deep roots inside the soil nor the soil was compatible with the nature of palm trees. Hence the inevitable happened and, within a few months, the trees dried or were uprooted by strong winds leaving the roadsides shallow for eyes.

Human ideologies, values, moral standards and etiquette are also like these trees. If they are planted on a suitable time in a suitable soil, they are bound to flourish. At the same time, if they have deep roots within human personality, then the storms can not uproot them. I find this law of deep roots and suitable soil significantly relevant for contemporary liberal and religious groups who are working towards the "implementation" of their ideologies and values on people. 

On one hand, for example, some religious groups wish to implement religious code of conduct on society without analyzing the status of peoples' affiliation with religion and its conduct and without developing the religious roots in human personality. They just want to impose the religious conduct on followers. In my opinion, this way of implementation of religion just covers the dust and does not clean it. On the other hand, liberals also do the same when they propagate their ideologies to foreign lands. Their ideals of liberty, uncontrolled freedom, ubiquitous gender equality, western democracy, attitude towards homosexuality etc, are exotic to a major part of the world. However, they still insist, actively or passively, on imposing these values. In both of the aforementioned cases, the results is hypocrisy and chaos, respectively. Unless the ideologies and values are deeply rooted in individual's personality, they can not flourish on collective and national level. The inevitable fate of all such efforts, which do not comply with the roots-and-soil law, is no different than that of uprooted palm trees.

We humans have come a long way in material development. Biomimetics is a field of science which deals with imitation of nature to solve complex human problems. I think, its time that we take lessons from nature for complex socio-cultural as well as psychological problems. I invite you to learn from small observations from the nature around us. 

Wherever you are, be a source of comfort and love for the creatures around you. 

Tuesday, July 2, 2013

چین، مذھبی جبر اور مسلمانوں کی حکمت عملی


غیر متصدقہ اطلاعات کے مطابق اس سال اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق ٢٠١٢ میں چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی (1). اس کے بارے میں مذمتی "بیان" دینے سے پہلے میں نے سوچا کے کیوں نہ تھوڑی ریسرچ کر لی جائے. وکیپیڈیا (2) کے مطابق سنکیانگ چین میں ایک خودمختار علاقہ ہے جہاں پر ترکی نسل کے مسلمانوں کی اکثریت ہے. غور طلب بات یہ ہے کے اس وسیع و عریض علاقے کی سرحدیں منگولیا،روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان ،پاکستان (گلگت بلتستان) اور بھارت سے ملتی ہیں.مزید غور طلب بات یہ ہے کے روس افغانستان جنگ میں چین نے اسی صوبے سے مجاھدین کو اسلحہ فراہم کیا اور یہاں مجاہدین کو تربیت بھی دی. میرے علم میں نہیں تھا کے اس گنگا میں چین نے بھی ہاتھ دھوے ہیں اور شاید پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح اب وہ بھی اپنے کیے کا خمیازہ بگھترہا ہے
خیر، جو بھی ہو مذھبی آزادی ہر انسان کا حق ہے، اور مذھبی جبر اور استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا. اس لئے ہم سب کو چین کی مذمت کرنی چاہیے بلکل اسی طرح جیسے ہم فرانس کی برقع زبردستی اتروانے اور (میری نظر میں) سعودیہ اور ایران کی، برقع زبردستی پہنانے کی مذمت کرتے ہیں. اس صورت حال میں ہمارے علما، سواے ایک عالم کے، سیاسی اور مذھبی اور سیاسی مذھبی جماعتوں کی خاموشی دیدنی ہے. کہیں سے چین کی مذمت میں ایک بیان بھی سننے کو نہیں ملا. شاید پاک چین دوستی آڑے آ گئی ہو یا وسیع تر ملکی اور ذاتی مفاد.یا شائد ملکی ایجنسی کا ڈر.
مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ، یہمسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے.ایسا صاف نظر آتا ہے کے دنیا کا اقتدار امریکا اور مغرب کے ہاتھ   سے نکل کر چین کے ہاتھ میں ہی جائے گا. تو پھر کیا مسلمانوں کی آنے والی نسل کو امریکا اور مغرب کے بعد ایک اور "طاغوتی قوت" سے لڑنے کی تیاریاں شروع کر دینی چاہیے؟ کیونکے شاید ہماری قسمت میں لڑنا اور مرنا ہی لکھ دیا گیا ہے. کیونکے ہم نہ تو جاپان ہیں کے دوسری جنگ عظیم کے بعد، اپنی خونی تاریخ سے سیکھ کر، نہ لڑنے کا معاہدہ کر لیں اور نہ ہی مشرقی اور مغربی جرمنی، کے ایک ساتھ پر امن انداز میں رہنا سیکھ لیں. تو کیا ہم مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کو ایک اور سپر پاورملک سے لڑنا ہو گا جو آج تک ہمارا بہترین دوست ہے؟ (جیسے ایک زمانے میں امریکا ہمارا نجات دہندہ تھا؟). کیا مسلمان ہمیشہ جلاؤ، لڑو اور مارو والی حکمت عملی پر عمل پیرا رہیں گے یا دنیا کی قوتوں سے نبرد آزما ہوے بغیر امن خرید کراپنی اصلاح، اپنی ترقی، اور اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں گے؟ کیا ہم ابھی بھی شاعروں کی بتائی ہوئی حکمت "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی" پر عمل پیرا رہیں گے یا اپنے نبی کے اسوہ میں صلح حدیبیہ سے کچھ سیکھیں گے؟ بیشک مسلمانوں پر وقت کی قوتیں مظالم ڈھا رہی ہیں، لیکن کیا یہ وقت ہے کے ہم جواب میں لڑیں، کیا ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا ہمیں امن خرید کر اپنے آپ کو ایسے مقام پر لانا چاہیے کے ہم اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا جواب دے سکیں؟ ابھی وقت ہے کے ہم اپنی ترجیحات اور حکمت عملی کا بغور جائزہ لیں ورنہ کم از کم مزید دو صدیاں لڑنے اور مرنے کے لئے تیار رہئے
الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو. جہاں رہئے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے باعث رحمت بنئے.
(1) http://www.aljazeera.com/news/asia-pacific/2012/08/201281113456325751.html
(2) https://en.wikipedia.org/wiki/Xinjiang

نوٹ: مندرجہ ذیل عبارت میں نے اپنی بات بہتر بیان کرنے کے لئے بعد میں ایڈ کی. "
 بیشک مسلمانوں پر وقت کی قوتیں مظالم ڈھا رہی ہیں، لیکن کیا یہ وقت ہے کے ہم جواب میں لڑیں، کیا ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں؟ یا ہمیں امن خرید کر اپنے آپ کو ایسے مقام پر لانا چاہیے کے ہم اپنے اوپر "ہونے والے مظالم کا جواب دے سکیں؟"

Thursday, March 28, 2013

انتہا پسندی اور ہمارا رویہ


بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج کل انتہا پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے. معاشرہ دو انتہاؤں میں بٹ چکا ہے مذہبی انتہا پسندی اور لبرل انتہا پسندی. دوسرے الفاظ میں معاشرہ پولرائز ہو چکا ہے. دونوں طرح کی انتہا پسندی کے پیچھے بیشتر وجوہات اور اسباب ہو سکتے ہیں، اور یہ بات بھی امر واقعہ ہے کے، جیسے نیوٹن نے کہا کے ہر عمل کا ایک برابر اور مخالف رد عمل ہوتا ہے، اسی طرح ایک انتہا پسندی دوسری طرف برابر سطح کی مخالف انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے.  لیکن آج میرا موضوع انتہا پسندی کے اسباب اور وجوہات پر روشنی ڈالنا نہیں بلکے اس انتہا پسندی کی طرف ہمارے رویے کو سمجھنا ہے.  


ہمارے ہاں ان دونوں طرح کی انتہا پسندی کو دیکھنے کا ایک خاص زاویہ نظر ہے. ایک طرف، مذہبی انتہا پسندی کا ظہور چاہے پاکستان طالبان کی صورت میں ہو یا شیعہ سنی فسادات کی صورت میں، انہیں عام طور پر اس طرح سمجھا جاتا ہے کے اصل میں کچھ بیرونی طاقتیں ہمارے معاشرے میں اس انتشار کو پھیلانے  کی ذمدار ہیں. اس طرح ہم اس انتہا پسندی کو پیدا کرنے میں اپنے کردار سے آنکھیں بند کر نے کے ساتھ ساتھ ، ان لوگوں کی اصلاح کا راستہ بند کر دیتے ہیں جو اصل میں دین کی متشددانہ اور انتہا پسند تعبیر کو خلوص نیت سے دین کی صحیح تعبیر سمجھتے ہیں. مذھبی انتہا پسند شخص دین کی انتہا پسندانہ تعبیر کے سہارے معصوم لوگوں کی جان کے در پےرہتا ہے اور ہم اس کے نظریات کی اصلاح کی بجاے سارا الزام باہر کی قوتوں کو دیتے رہتے ہیں. 

 دوسری طرف اگر کوئی دانشور، یا عام آدمی، لبرل اور سیکولر خیالات رکھتا ہو تو ہم اسے مغرب اور بیرونی طاقتوں کا آلہ کار اور مسلم معاشرے میں مغربی خیالات کا پرچار کرنے کی "سازش" کا حصہ سمجھتے ہیں. ہم اس بات کو بعید از امکان تصور کرتے ہیں کے، ہو سکتا ہے، مغربی تہذیب کے غلبے کے اس دور میں، ایک شخص مذھبی انتہا پسندی اور اپنے ذھن میں پیدا ہونے والے اشکالات کا مناسب اور تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں، اس نتیجے پر پہنچا ہو کے اصل میں لبرل اور سیکولر نظریات ہی دنیا کے امن اور انسان کی بھلائی کے لئے ضروری ہیں. جب ہم دیکھتے ہیں کےیہ سیکولر اور لبرل انسان مذھبی شعارخصوصاً داڑھی، حجاب یا جہاد پر تنقید کر رہا ہے تو اس کے اشکالات اور اس کے ذہن میں موجود سوالات کا جواب خلوص اور تعن و تشنیع کے بغیر دینے کی بجاے ہم اس کو اپنے سے الگ دشمن کے گروہ میں ڈال دیتے ہیں اور اس پر لبرل اور سیکولر کا فتویٰ صادر کر کے اپنے سے الگ کر دیتے ہیں، جس سے اس بات کا امکان بلکل ختم ہو جاتا ہے کے وہ شخص اپنے خیالات کو بدلنا تو دور کبھی ان پر نظر رسانی بھی کر پائے 


اپنے ضمیر کو بیچنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں مگر میری ناقص راے میں ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ہوتی;اس لئے کسی بھی انتہا پسند انسان کو، چاہے وہ مذھبی انتہا پسند ہو یا لبرل انتہا پسند، چاہے وہ ایک عام انسان ہو یا کوئی اسکالر، کسی دوسرے گروہ میں ڈالنے اور اس کے نام کے ساتھ غدار، امریکی ایجنٹ اور اس طرح کے دوسرے لیبل لگانے سے پہلے، ایک سائیکولوجسٹ کی طرح، ہمیں اس کے نظریات اور محرکات کا نظریاتی سطح پر تجزیہ کرنا چاہیے اور اس کے بعد یہ کوشش کرنی چاہیے کے ہم اس کے ضمیر کو جھنجوڑیں نہ کے اس کی آنا کو. ہم اچھے اخلاق، حسن ظن اور خلوص کے ساتھ اپنا مقدمہ اس کے سامنے رکھیں اور اسے بتائیں کے ہمارے نزدیک کس طرح اس کے خیالات اور افکار غلط ہیں.میری نظر میں یہ ناممکن ہے کے آپ کسی کو دشمن کا آلہ کار، غدار اور گستاخ بھی کہیں اور پھر یہ سوچیں کے وہ آپ کی بات سنے گا اور اپنے خیالات کو بدل دے گا. ایک مفکر کے الفاظ میں ہمارا اصل کام لوگوں کی نیتوں اور محرکات کو تہ کرنا نہیں بلکے ان کی اصلاح کرنا ہونا چاہیے اور ہمیں یہ نظریاتی جنگ نظریے سے ہی لڑنی ہے .

 جہاں رہئے خدا کی مخلوق کے دلوں میں جگہ بنا کے رہئے

Wednesday, March 13, 2013

اندر کی خوشبو



ایک دن راستہ چلتے ایک مقام پر شدید بدبو کا سامنا ہوا، میں نے اپنے ناک پر ہاتھ رکھ لیا. سامنے سے ایک شخص کو آتے  دیکھا جو بغیر کسی تردد کے، کسی بدبو کے احساس کے بغیر چلا آ رہا تھا. میں جب اس شخص کے قریب پوھنچا تو احساس ہوا کے اس نے بہت اچھی اور نسبتاً تیز پرفیوم لگا رکھی ہے اور اسے اپنے اندر سے آنے والی خوشبو کی وجہ سے باہر سے آنے والی بدبو محسوس نہ ہوئی. 
اس واقعے نے میرا ایک بہت سادہ مگر خوبصورت حقیقت سے سامنا کروایا اور وہ یہ کے انسان کے اندر کی خوشبو اسے دوسروں کے اندر موجود بدبو سے بےنیاز کر سکتی ہے. آپ کے اندر کی خوشبو جتنی دلکش اور تیز ہوگی آپ کو لوگوں کی بدبو اتنی ہی کم محسوس ہو گی. سادہ الفاظ میں آپ کے اندر کا انسان جتنا با ظرف ہو گا، آپ کو لوگوں کے عیب اتنے ہی کم نظر آئین گے.  اپنے اندر کی خوشبو کو تیز کیجئے، آپ کو ہر طرف خوشبو ہی محسوس ہو گی.


Tuesday, January 1, 2013

اختلافات - خدا کی نعمت


الله تعالیٰ نے اس دنیا میں اختلاف کے ذریعے خوبصورتی پیدا فرمائی. اگر ہم اس دنیا کا بغور جائزہ لیں  تو ہمیں یہ حقیقت آشکار ہو گی کے انسانوں، جانوروں، نباتات و جمادات، قدرت کے حسین نظاروں ، پھولوں، موسموں، غرضیکے ہر شے میں  خوبصورتی کی اصل وجہ اختلاف  اور تنوع  ہی ہے.. آپ غور کیجئے  کے صحرا اختلاف سے محرومی کے سبب بوریت کا باعث بنتے اور گلستان اسی اختلاف کی دولت سے مالا مال ہونے کے باعث د لکش محسوں ہوتے ہیں. اسی طرح یہ اختلاف ہی اصل میں دنیا میں ہماری دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے.

میرے  بچپن کا کچھ حصہ کویت جیسے صحرائی ملک میں اور جوانی کا ایک بڑا حصہ ملائشیا  میں گزر رہا ہے جہاں سارا سال موسم معتدل رہتا ہے. یہاں سالہا سال تقریباً ایک ہی موسم رہتا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی بوریت کا احساس ہوتا ہے اور اپنے وطن کے 4 موسم یاد آتے ہیں.کچھ یہی صورت حال انسانوں کے افکار اور خیالات کی بھی ہے. الله تعالیٰ کا انسانوں پر یہ بہت بڑا کرم ہے کے اس نے انسانوں کے خیالات، افکار اور زاویہ نظر میں اختلاف رکھا. اگر پوری دنیا کے لوگ ایک ہی طرح سوچتے تو نہ انسانی تمدن ترقی کرتا اور نہ ہی علم کی دنیا میں ترقی ہوتی. زاویہ نظر کا اختلاف ہی انسانی ذہن کو کشادہ کرتا اور انسان کے سوچنے کے انداز میں وسعت پیدا کرتا ہے.
     انسان اگر اختلاف  اور تنوع کی اس اہمیت کو سمجھ لے تو یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کے اصل میں اختلاف اس دنیا کے پروردگار کی بہت بڑی نعمت ہے


 لیکن افسوس، ہمارے ہاں اختلاف کو نعمت کی بجاے زحمت سمجھا جانے لگا ہے. ہم نے فکری اختلاف کو باہمی عناد اور دشمنی کا موجب بنا لیا ہے. ہمیں یہ نہیں سکھایا گیا کے کس طرح ہم  اپنے رشتوں اور افکار میں اختلافات کو الگ الگ رکھیں.  نتیجتاً لوگ اختلاف جیسی نعمت سے بھاگنے لگے ہیں. کہیں صوبائیت کو ناسور سمجھا جاتا ہے تو کہیں مسلمانوں میں موجود مختلف مکتبہ فکر کو زحمت. حالانکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختون، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے تہذیبی، لسانی اور جغرافیائی اختلافات ہی پاکستان کے حسن کا مظہر ہیں. اسی طرح مسلمانوں میں موجود مختلف مکتبہ فکر ہی اصل میں اسلامی علم و فکر کی ترقی کے ضامن ہیں. مسلہ تو اپنے صوبہ پر تکبر اور دوسرے صوبے اور وہاں کے لوگوں کو کمتر سمجھنے میں ہے. اسی طرح صرف اپنے مکتبہ فکر کو حق پر اور باقی تمام مکاتب فکر کو گمراہ سمجھنا اصل مسلہ ہے. 

المیہ یہ ہے کے اب  ہر جگہ اختلافات کو سرے سے ختم کرنے کی غیر فطری بات کہی جاتی ہے. علما ہوں یا دانشور، سیاسی قائدین ہوں یاعام آدمی ہر شخص اختلاف کو ختم کر کے وحدت قائم کرنا چاہتا ہے.  یہ  سراسر حقیقت کے برعکس ہے. میں سمجھتا ہوں کے جب تک انسان روبوٹ نہیں بن جاتے اختلافات بھی ختم نہیں ہو سکتے. اسی لئے ہمیں اختلافات کو ختم کرنے پر زور دینے کی بجاے، اپنے آپ اور آنے والی نسل کی ، اس بات کی تربیت کرنی چاہیے کے اختلافات کے باوجود کس طرح اچھے روابط برقرار رکھے جا سکتے ہیں. ہمیں اس بات کا پرچار کرنا ہے کے اختلاف ایک نعمت  ہے اور اختلافات کے ساتھ جینا ہی اصل جینا ہے اور ایسے جینے میں ہی اصل خوبصورتی ہے.

جہاں بھی رہیے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنیے

Tuesday, December 11, 2012

ہمارے معاشرے کے تضادات - "چھوٹے" کام

 ہمارے بڑے ہمیں ہمیشہ ایک نہایت عمدہ سبق پڑھاتے رہے. وو یہ کے بیٹا ہمیشہ محنت کرنا اور کوئی بھی کام کرنے میں کبھی کوئی آر محسوس نہ کرنا. وہ ہمیشہ ہمیں بتاتے رہے کے اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں ہی بڑائی ہے. یہ ایک نہایت عمدہ درس تھا جو وہ ہمیں دیتے رہے. 

لیکن اس کے ساتھ ہی، نہ چاہتے ھوے ،وہ ہمیں ایسے "درس" بھی دیتے رہے جو اوپر دیے گئے سبق کی نفی تھے اور جس سے ہمارے رویوں میں موجود تضاد جھلکتا ہے. وہ درس مختلف صورتوں میں سامنے آتا. میں آپ کے سامنے اس کی صرف  ایک سادہ سی صورت رکھتا ہوں. شادی بیاہ کے موقعے پر اگر ہمارے ہاں پتہ چلے کے لڑکا / لڑکی ایسے خاندان سے ہے جن کے آباؤ اجداد موچی یا مہاجر یا تیلی تھے تو وہاں شادی کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا. یہ ایک نہایت باریک تضاد ہے. لیکن اگر آپ بغور تجزیہ کریں تو آپ کو یہ واضح ہو جائے گا کے اسی طرح کے بہت سے غلط نظریات کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں لوگ "چھوٹا" کام کرنے میں آر محسوس کرتے ہیں. 

میں نے "چھوٹے " کام کے معاملے میں صرف ایک تضاد کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروائی. مجھے یقین ہے کے آپ اس آرٹیکل میں اپنے تجربات شیر کر کے مزید ایسے نظریات کی نشاندہی کر سکتے ہیں جس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے کے ہمارے ہاں لوگ،  بظاھر چھوٹے  کام کرنے میں آر کیوں محسوس کرتے ہیں. 


جہاں بھی رہیے اپنے ارد گرد الله کی مخلوق کے لئے سکون اور خوشی کا ذریعہ بنیے . 



Sunday, December 2, 2012

غزہ اور شام

غزہ پر اسرائیلی جارحیت یقینن کسی بربریت سے کم نہیں. اس پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں نے  اسرائیل کی مذمت کی. ہم سب اور ہماری مذہبی اور سیاسی جماعتیں بھی آگے آگے تھیں. کچھ دنوں کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اسرائیل کی شدید مذمت کی گئی، ہماری مذہبی، سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے جلسے بھی کیے اور فلسطینی عوام کے لئے چندہ بھی ا کٹھا کیا گیا. 

 لیکن اس کے برعکس، شام میں ہونے والی جارحیت کے خلاف ہر طرف خاموشی ہے. آخر کیوں؟  ہم سب خاموش کیوں ہیں؟ ہماری مذہبی، سیاسی، اور مذہبی-سیاسی جماعتیں شام کے صدر کے خلاف مظاہرہ کیوں نہیں کرتیں؟  کیا صرف امریکا اور اسرائیل کا ظلم ہی ظلم ہے اور کسی مسلمان کا کیا ہوا ظلم، ظلم نہیں؟ یا پھر یہاں آواز اٹھانے سے وہ "مفادات" حاصل نہیں ہوتے جو امریکا اور اسرائیل کے خلاف آواز اٹھانے سے ہوتے ہیں؟ ہم سب کا،ہماری مذہبی، سیاسی، اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا یہی دوہرا معیار، میری نظر میں ہمیں اخلاقی برتری کے مقام سے نیچے گرا دیتا ہے. ہم دوسروں کے ظلم کو بڑھا چڑھا کے بیان کرتے ہیں اور اس کے خلاف ریلیاں نکال کر عوام میں مقبولیت بھی حاصل کرتے ہیں. لیکن اپنوں کے مظالم پر 
ایک چھوٹا سا بیان دے کر سمجھتے ہیں کے فرض پورا ہو گیا.

   ہمیں ہر حال میں انصاف سے معاملہ کرنا چاہیے، اس انصاف کا پیمانہ ہر ایک کے لئے ایک جتنا ہونا چاہیے. چاہے وہ ہمارا اپنا ہو یا دشمن. یہی انسانی اخلاقیات کا تقاضا ہے اور یہی ہمارے دین کی ہدایت ہے. 

Friday, November 2, 2012

سازشی اور تعمیری ذہن


کچھ عرصہ قبل پاکستان میں سیلاب آیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا. مون سون کے موسم میں پاکستان میں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں اور زیادہ بارشوں کی صورت میں سیلاب آنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں. لیکن اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہماری حکومتوں کی جانب سے کبھی کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آئی . نتیجہ یہ ہے کے ہر سال بارشوں کے نتیجے میں بہت جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے. لیکن ہم لوگ اپنے سازشی ذھن کو استمعال کرتے ھوے سارا ملبہ امریکا پے ڈال دیتے ہیں. سیلاب کے دنوں میں بہت سے لوگوں سے یہ کہتے سنا کے امریکا ہارپ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں سیلاب لانے کا ذمہدار ہے. مجھے اندیشہ ہے کے اپنے اس رویے کی وجہ سے، چونکے ہم نے ابھی تک سیلاب کے نقصانات سے بچاؤ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کے، اگلے سال بھی، خدا نخواستہ، "امریکا" دوبارہ پاکستان میں سیلاب کے ذریعے تباہی پھیلاۓ گا.

 اسی طرح کی ایک اور قدرتی آفت ڈینگی کی صورت میں پاکستان پے نازل ہوئی. لوگوں نے دوبارہ اس آفت کو امریکا کے کھاتے میں ڈالا اور آج بھی انٹرنیٹ پے ایسے آرٹیکل موجود ہیں جو یہ استدلال دیتے ہیں کے امریکا نے کیوبا میں بھی وار فیئر کے لئے ایسا ہی کیا تھا اور پاکستان میں بھی وہ ہی ڈینگی کا ذمدار ہے. البتہ، سیلاب کے برعکس، اس دفعہ حکومت نے صحیح سمت میں اقدامات کیے اور ڈینگی پے کافی حد تک قابو پا لیا. ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال لاہور میں ڈینگی نے ١٦٠٠٠ لوگوں کو بیمار کیا اور ٣٥٢ لوگ اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ھوے. اس سال حکومت کے بر وقت اقدامات کی وجہ سے صرف ٢٣٤ کیسز سامنے آے اور ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہوا. 

اب ایک انفرادی نوعیت کے واقعے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں. میرے ایک قریبی دوست کے عزیز کچھ عرصہ قبل یورپ کے ایک ملک میں روزگار کے سلسلے میں گئے. کچھ سال وہاں گزارنے کے با وجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور واپس پاکستان آ گئے.  اس دوران بہت سے لوگ یورپ گئے اور کامیاب بھی ہوے. موصوف نے اپنی سب ناکامیوں کا ملبہ اپنے والدین کی غلط منصوبہ بندی پے ڈالا اور ہمیشہ خود کو بری از زماں قرار دیا. آج انھیں یورپ سے واپس آئے کئی سال بیت چکے ہیں، لیکن آج بھی اگر آپ ان کے ساتھ بیٹھیں تو ان کی انگلی ہمیشہ دوسروں کی طرف اٹھتی نظر آے گی، کبھی والدین، کبھی وطن، کبھی اپنے ارد گرد کے لوگوں اور کبھی معاشرے کو مورد الزام ٹھہراتے اور لعن تان کرتے نظر آیئں گے. آج بھی وہ یہی کہیں گے کے وہ ایک انتہائی با صلاحیت انسان ہیں اور زندگی میں بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن ان بیرونی اسباب کی وجہ سے وہ آج ناکام ہیں. نتیجہ یہ ہے کے، صلاحیت ہونے کے باوجود،  آج بھی وہ ایک بیروزگار اور ناکام انسان ہیں.
ان  واقعات میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں. ہم اس اصول کو انفرادی زندگی میں تو ہمیشہ مانتے اور اسی کا درس دیتے ہیں کے خود احتسابی میں ہی کامیابی ہے، کے انسان جب کسی پر انگلی اٹھاتا ہے تو ایک انگلی دوسرے کی طرف اور چار اپنی طرف ہوتی ہیں، کے اپنے آپ کو مضبوط بناؤ گے تو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، لیکن اجتمائی معاملات میں ہمیشہ اس کے خلاف عمل کرتے اور سوچتے ہیں.  میں یہ نہیں کہتا کے دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا لیکن، میرے دوست کے عزیز کی طرح، جب کوئی قوم اپنی ہر شکست، اپنی ہر کمزوری اور اپنی ہر غلطی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے لگے تو جان لیجئے کے وہ قوم ذہنی طور پر شکست خوردہ ہے، اور اپنی ناکامیوں سے جانتے بوجھتے آنکھیں چرا رہی ہے کیونکے اسی میں وہ اپنے لئے سکون محسوس کرتی ہے. ہمیں اب یہ سمجھ لینا چاہیے کے وہ قومیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں جو اپنی تباہی اور ناکامی میں دوسروں کی سازشیں ڈھونڈتی ہیں اور اپنی ناکامیوں کا ذمہدار دوسروں کو ٹھہراتی ہے،  بلکے وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو تعمیری ذھن کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو دور کرتی اور اپنے آپ کو مضبوط بناتی ہیں. ہماری قوم کو اگر ضرورت ہے تو ایسے "سائیکولوجسٹ" کی جو اس کی سوچ کو صحیح سمت میں موڑ سکے. یاد رکھیے کے ضروری نہیں کے وہ  "سائیکولوجسٹ" اس قوم کے دانشور اور علما ہی ہوں، یہ کردار میں اور آپ بھی ادا کر سکتے ہیں. 
آئیے اپنی تباہی اور ناکامی کو غیروں کے کھاتے میں ڈالنے اور سازشیں ڈھونڈھنے کی بجاے اپنی شکست کو تسلیم کریں، اپنی غلطیوں کو دور کریں اور اپنے ذھن کو تعمیر کے راستے پے ڈالیں. یہی تعمیر اور ترقی کا راستہ ہے.

Tuesday, October 23, 2012

10 Lessons Driving Taught me About Life

It is true that you do not need to be a philosopher to learn many things about life, you just need to be a good observer because everything around us has something to teach us. In my humble opinion, all the great philosophers were keen observes before anything else. The problem with many of us is that most of the time our observation is switched off. Try looking above your eye level, look at the roof tops of the buildings you come across everyday, and you will find a totally alien sight, which you might have never observed. So, today, let me share with you the lessons of life which i learn from driving on the road. 

  1. Driving teaches me how i should give way to those who are progressing at a faster speed than mine and i am an obstacle in their way
  2. It teaches me how i should overtake others without harming or hurting them. Our progress in life should not be at the cost of others. 
  3. It teaches me to stay in my own lane and not interfere in other people's lives
  4. It teaches me to keep my car within limits of speed and lane, because in life sometimes "over speeding" and "driving" in a wavered fashion can, not only harm ourselves, but it can also harm others. 
  5. It teaches me that when i encounter a speed breaker in life, i should slow down my pace and cross the speed breaker with patience.  
  6. It teaches me, through a bigger windshield, to have a bigger vision about my future and through the smaller side mirrors to keep an eye on the past while taking turns (decisions)
  7. An accident on roadside and the cars passing by, teaches me that no matter what, life goes on. 
  8. It teaches me that before a red signal, comes a yellow one, and i should slow down as soon as i see the yellow signal. In life, if you will stop on the "yellow" signals of your conscience, then there are less chances that you will cross the line when it will turn red.
  9. It teaches me patience and discipline when the signal turns green. I always say that if you want to analyze the reason of a country's bad circumstances, observe its drivers especially when the signal turns green and observe the guests when the food opens in a wedding. 
  10. It teaches me that only good roads are not enough to avoid accidents. Good roads are of no use if the drivers are not trained and ethical while driving. Hence, to develop a nation, implementing a better system will not be enough, educating people is one of the major success factor. 
I have shared some of the lessons i have learnt from driving. Keep the eyes of your intellect wide open, and remember that the road to intellect is keen observation. Would love to hear your roadside lessons, so please do share.

Wherever you are, be a source of comfort and joy for others